خطبات محمود (جلد 20) — Page 237
خطبات محمود ۲۳۷ سال ۱۹۳۹ء پڑھتا ہے تو اس وقت اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ دست در کار دل بایار۔دیکھو نماز کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی کی دعوت کی کرے اور کہے کہ کھانا اکٹھا نہیں کھایا جائے گا ہر شخص اپنا برتن بھجوا دے اس میں کھا نا ڈلوا دیا جائے گا ، اب جو شخص برتن لے کر جائے گا اُسے کھا نامل جائے گا مگر جو برتن لے کر نہیں جائے گا وہ محروم رہے گا۔اسی طرح نماز کیا ہے؟ نماز ایک روحانی کھانے کی تقسیم کا وقت ہے جو شخص اس وقت برتن لے کر جائے گا وہ اُس میں کھانا ڈلوا لائے گا مگر جو خالی ہاتھ جائے گا اُس کو وہاں سے ہی خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑے گا کیونکہ وہ برتن لے کر ہی نہیں گیا۔گو جانے میں وہ برتن لے جانے کی والوں کے برابر ہی رہا لیکن ان کو تو کھانا مل جائے گا جن کے پاس برتن ہوں گے مگر اُس کو کچھ نہیں ملے گا کیونکہ اس کے پاس برتن نہیں تھا یا پھر فرض کرو یہ برتن تو لے جاتا ہے مگر پاخانہ سے بھرا ہوا ہے جیسے پاخانہ کا پاٹ اُٹھا کر کوئی لے جائے تو اُس میں جو کھانا ہی ڈالا جائے گا وہ کھانے کے قابل نہیں ہوگا بلکہ پھینک دینے کے قابل ہوگا۔ایک لطیفہ مشہور ہے کہتے ہیں کوئی لڑکا اپنے ملاً اُستاد کے لئے گھر سے کھیر لے کر گیا چونکہ اس کے گھر سے کھیر چھوڑ پہلے کبھی باسی روٹی بھی نہیں آئی تھی اس لئے اُستاد بہت ہی حیران ہوا اور اُس نے لڑکے سے دریافت کیا کہ بیٹا آج تیری ماں کو کھیر بھیجنے کا خیال کیسے آگیا ؟ اس نے جواب دیا کہ ملا جی بات دراصل یہ ہے کہ اماں نے کھیر پکائی تھی اس میں گنتا منہ ڈال گیا اس پر ماں مجھے کہنے لگی کہ جاملا جی کو دے آ۔اُس کو یہ سُن کر سخت غصہ آیا اور اُس نے برتن زمین پر دے مارا جو گرتے ہی ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور کہنے لگا کمبخت کیا گتے کا جھوٹا میرے لئے ہی رکھا تھا ؟ لڑکے نے جب دیکھا کہ برتن ٹوٹ گیا ہے تو وہ رونے لگ گیا اُس پر ملا نے کہا کہ تو روتا کیوں ہے؟ برتن میں گٹا منہ ڈال گیا تھا اور وہ کھانے کے لئے استعمال کرنے کے قابل نہیں رہائی تھا۔لڑکا کہنے لگا مجھے ڈر ہے کہ گھر جاؤں گا تو اماں خفا ہوگی کیونکہ یہ برتن جس میں میں کھیر ڈال کج کر لایا تھا اس میں میری ماں چھوٹے بھائی کو پیشاب کرایا کرتی تھی اب چونکہ یہ برتن ٹوٹ گیا ہے اس لئے وہ ناراض ہو گی۔یہی حال بغیر قیود اور شرائط کے نماز ادا کرنے کا ہے۔حقیقی نماز تو بندے اور خُدا میں تعلق قائم کرتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ نماز کو اُن تمام آداب کے ساتھ ادا کیا جائے جو