خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 162

خطبات محمود ۱۶۲ سال ۱۹۳۹ء رکھ سکتے ہیں اور چالیس سال کا عرصہ کوئی معمولی عرصہ نہیں ہوتا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ چونکہ انسان کی تی اوسطاً عمر ساٹھ ستر سال کے درمیان ہے اور ادھر دس گیارہ سال کا لڑکا جوانی کے قریب پہنچ جاتا ہے۔اس لئے در حقیقت اگر نو جوانوں کی درستی کر لی جائے تو وہ چالیس سال ہی نہیں بلکہ پچاس سے ساٹھ سال تک قوم کی حفاظت کا موجب بن جاتے ہیں اور پچاس ساٹھ سال تک کسی قوم کو نشو ونما کا موقع مل جانا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔اگر وہ قوم ہمت والی ہو، اگر وہ کی مشکلات اور مصائب سے گھبرانے والی نہ ہو، اگر خدا کے وعدے اور اُس کی نصرتیں اُس کے ساتھ ہوں اور اگر اُس قوم کے نوجوان اور بوڑھے درست ہوں اور اُن کا اخلاقی اور مذہبی معیار بہت بلند ہو تو وہ پچاس ساٹھ سال کے اندر اندر تمام دنیا پر چھا جانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔در حقیقت اُتار چڑھاؤ ہی ہے جو قوموں کو نقصان پہنچایا کرتا اور اُن کی ترقیات کو روک دیتا ؟ ہے یعنی ایک وقت تو وہ جوش میں آجاتی اور بڑے زور شور سے کام شروع کر دیتی ہیں مگر دوسرے وقت گر جاتی ہیں۔ایک وقت تو اُن کی ہمتیں نہایت بلند ہوتی ہیں اور وہ مردانہ وار مصائب کے مقابلہ کا تہیہ کر کے ترقی کی طرف بڑھنا شروع کر دیتی ہیں مگر دوسرے وقت بالکل دب جاتی اور پستی کی طرف گرنا شروع کر دیتی ہیں۔ایسی صورت میں اس قوم کی پستی کا زمانہ اس کے ان فوائد کو کمزور کر دیتا ہے جو اس نے اپنی ترقی کے ایام میں حاصل کئے ہوتے ہیں مگر جب تمام قوم کا قدم یکساں طور پر آگے کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہو تو پچاس ساٹھ سال دُنیا بھر میں تغیر پیدا کرنے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔پس نو جوانوں کو درست کرنے اور اُن کے اخلاق کو سدھارنے سے جماعت کو عظیم الشان فائدہ پہنچ سکتا ہے اور میں خدام الاحمدیہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اُنہیں اپنے کام کی عظمت کبھی بھی فراموش نہیں کرنی چاہئے۔خدام الاحمد یہ دوسری انجمنوں کی طرح ایک انجمن ہے۔وہ ہر گز اس قابل نہیں کہ انہیں اس میں شامل رکھا جائے۔اسی طرح وہ ممبر جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ایک کمیٹی بنا کر سلسلہ کی خدمت کا جزوی طور پر کچھ کام کریں گے وہ بھی اپنے کام کی اہمیت اور اُس کی عظمت سے بالکل نا واقف ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ کسی قوم کے نوجوانوں کی درستی ہی اصل کام ہوا کرتا ہے اور یہی کام ہے جو قوموں کی ترقی کے راستہ میں محمد اور معاون ہوا کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام پر ابتدائے زمانہ میں