خطبات محمود (جلد 20) — Page 156
خطبات محمود ۱۵۶ سال ۱۹۳۹ء کہ ایسی باتیں معلوم کر لیتے ہیں جو دوسروں کو معلوم نہیں ہو سکتیں اور اس طرح چور یا ڈا کو ان کی اطلاع پر وہاں سے بھاگ کر دوسری جگہ جا چھپتے۔اگر آنکھوں سے دیکھ کر چھپنے کی کوشش کی جائے تو بچنا محال ہو جاتا ہے کیونکہ سوار پکڑ سکتے ہیں مگر جب وہ تین میل کے فاصلہ پر سے ہی اطلاع مل جائے تو اُن کے وہاں پہنچنے تک وہ آگے نکل کر جاسکتے ہیں۔اس طرح زبان ، ناک، ہاتھ اور کان کی مشق بہت کام آنے والی چیزیں ہیں۔ان سے ذہانت میں بھی ترقی ہوتی ہے۔ذہانت حواس خمسہ کی تیزی کا نام ہے اور جو اس کی تیزی کے لئے ایسی کھیلیں ایجاد کی جاسکتی ہیں بلکہ ہمارے بزرگوں نے ایجاد کی ہوئی ہیں۔جو کھیل کی کھیل ہیں اور آئندہ زندگی کے فوائد بھی اُن میں مخفی ہیں۔خدام الاحمدیہ کو چاہئے کو اس بات کو اپنی سکیم میں شامل کریں اور جماعت میں ان کو رائج کریں۔میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی کہا تھا کہ جماعت ورزش جسمانی کی طرف خاص طور پر زور دے اور اب میں یہ کام بھی خدام الاحمدیہ کے سپرد کرتا ہوں کیونکہ یہ نو جوانوں سے تعلق رکھتا ہے۔پس خدام الاحمدیہ اسے قادیان میں بھی اور باہر بھی شروع کریں۔مجھ سے مشورہ کر کے وہ ایسی سکیمیں تیار کر سکتے ہیں کہ جن کے ذریعہ ایسی کھیلیں جماعت میں جاری کی جاسکیں جو آئندہ زندگی میں کام آنے والی ہوں۔نویں بات جس کی طرف میں خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں وہ علم کا عام کرنا ہے۔میں پہلے ان کو توجہ دلا چکا ہوں کہ ان کا فرض ہے کہ علم سیکھیں لیکن یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ کسی شخص کا حاصل کرنا اُسے بچا نہیں سکتا جب تک اُس کے ارد گرد بھی نیکی نہ ہو۔آپ اپنے بچے کو کتنا سچ بولنے کی عادت کیوں نہ ڈالیں وہ کبھی سچا نہیں ہو سکتا جب تک اُس کے محلہ میں دوسرے بچے کی جھوٹ بولتے ہیں۔پس ان کا اپنا علم حاصل کر لینا کام نہیں آ سکتا جب تک کہ دوسروں میں تعلیم کی اشاعت نہ کریں۔کچھ عرصہ سے میں نے ان کے سپرد یہ کام کیا ہوا ہے کہ قادیان میں کوئی کی ان پڑھ نہ رہے اور جب یہاں یہ کام ہو جائے گا تو پھر باہر بھی اسے شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کچھ عرصہ سے اس کے متعلق کوئی رپورٹ مجھے نہیں بھیجی۔اس لئے میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ کام ہو رہا ہے یا نہیں۔یہ کام اتنا اہم تھا کہ ان کو یہ سمجھنا چاہئے تھا کہ اس کے متعلق ہفتہ واری رپورٹ