خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 157

خطبات محمود ۱۵۷ سال ۱۹۳۹ء ضروری ہے مگر آج میں یہ کام پھر خصوصیت کے ساتھ ان کے سپر د کرتا ہوں اور ان کو توجہ دلاتا ہوں کہ اسے پہلے یہاں شروع کریں اور پھر باہر۔اور کوشش کریں کہ سال دو سال کے عرصہ میں کوئی احمدی ایسا نہ ہو جو پڑھا ہوا نہ ہو۔خواہ احمدی عورت ہو یا مرد ، بچہ ہو یا بوڑھا سب پڑھے ہوئے ہونے چاہئیں۔اس کے لئے چھوٹے سے چھوٹا معیار مقرر کر لیا جائے اور پھر اس کے مطابق سب کو تعلیم دی جائے۔یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک علم عام نہ ہو جماعت پورا فائدہ کی نہیں اُٹھا سکتی۔اس زمانہ میں علم کتابی ہو گیا ہے مگر پہلے زمانہ میں زبانی ہوتا تھا۔پہلے زمانہ میں علم کا نوں کے ذریعہ سکھایا جاتا تھا مگر اب کتابوں کے ذریعہ۔اس لئے خدام الاحمدیہ کو کوشش کرنی چاہئے کہ ہر احمدی لکھنا پڑھنا سیکھ جائے۔عربوں میں زبانی حفظ کرنے کا رواج تھا اور اس کا یہاں تک اثر ہے کہ صرف ونحو کی بعض کتابیں وہ ہر طالب علم کو حفظ کراتے ہیں۔پرانے زمانہ میں علماء کے لئے قرآن کریم کو حفظ کرنا ضروری سمجھا جاتا تھا ، حدیثوں کو یاد کرنا محد ثین کی کے لئے ضروری ہوتا، شاعروں میں شعر زبانی یاد کرنے کا رواج تھا، صرفی نحوی صرف ونحو کی کتا ہیں یاد کرتے تھے۔فقہاء فقہی کتابیں حفظ کرتے تھے مگر آج کل تو قرآن کریم کا حفظ کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا۔کتابیں عام ہیں جب ضرورت ہوئی دیکھ لیا مگر اس زمانہ میں کتا بیں عام نہ تھیں اس لئے حفظ کرنا ضروری سمجھا جاتا تھا۔یہاں تک کہ اس زمانہ میں کتاب لکھنا یا پڑھنا موجب عار سمجھا جاتا تھا اور اس کے یہ معنی سمجھے جاتے تھے کہ حافظہ کمزور ہے۔وہ شاعر، شاعر ہی نہیں سمجھا جاتا تھا جس کے شعر لکھے جائیں۔اس کے یہ معنے ہوتے تھے کہ گویا اس کی قوم نے اس کی قدر نہیں کی۔اگر قوم قدر کرتی تو اس کے شعر حفظ کرتی۔اسی واسطے جو بڑے بڑے شُعراء ہوتے تھے ان کے ساتھ ایسے لوگ رہتے تھے جو اُن کے شعر حفظ کرتے۔ان کو راویہ کہا جاتا تھا اور توجہ اور مشق سے حافظے اتنے تیز ہو جاتے تھے کہ بعض کو لاکھ لاکھ ، دو دو لاکھ اور تین تین لاکھ شعر زبانی یاد ہوتے تھے۔ایران کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک بادشاہ تھا اُس زمانہ میں وہاں عربی کا زیادہ رواج تھا۔اسلامی ممالک میں زیادہ تر یہی زبان رائج ہوتی تھی۔بادشاہ کی کو سخاوت کی عادت تھی۔شعراء آتے شعر سناتے اور بڑے بڑے انعام پاتے تھے۔وزیر نے اس سے کہا کہ شعراء تو اس طرح کوٹ کر لے جائیں گے اور خزانہ میں کمی آجائے گی۔اس لئے کی