خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 151

خطبات محمود ۱۵۱ سال ۱۹۳۹ء مناسب نہیں۔حالانکہ اگر کھیل کو د بچوں کا کام ہے تو کہانیاں بھی تو بچوں سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔پھر جب ابتدائی عمر کی کھیل یعنی کہانیوں کے متعلق احتیاط کی جاتی ہے تو کیوں بڑی عمر کی کھیل میں اس سے زیادہ احتیاط نہ برتی جائے اس زمانہ میں جو تعلیم دی جاتی ہے وہ تو کہانیوں کے زمانہ سے بہت زیادہ اہم ہے۔پس میں خدام الاحمدیہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ بچوں کے کھیل کود کے زمانہ کو وہ زیادہ سے زیادہ مفید بنانے کی کوشش کریں اور کوشش کریں کہ کھیلیں ایسی ہوں کہ جو نہ صرف جسمانی کی قوتوں کو بلکہ ذہنی قوتوں کو بھی فائدہ پہنچانے والی ہوں اور آئندہ زندگی میں بھی بچہ اِن سے فائدہ اُٹھا سکے۔ان میں تین باتوں کا خیال رکھا جائے۔ایک تو جسم کو فائدہ پہنچے، دوسرے ذہن کی کو فائدہ پہنچے اور تیسرے وہ آئندہ زندگی میں ان کے کام آ سکیں۔جس کھیل میں یہ تینوں باتیں ہوں گی وہ کھیل کھیل ہی نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم بھی ہوگی اور وہ طالب علم کے لئے ایسی ہی ضروری ہو گی جیسی کتابیں۔جب میں یہ کہتا ہوں کہ کھیلیں ایسی ہوں جو ذہنی تربیت کے لئے مفید ہوں تو میرا مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ بچوں کی دلچسپی بھی قائم رہے۔یہ نہیں ہونا چاہئے کہ وہ ایک فلسفہ بن جائے اور بچوں کو زبر دستی کھلانی پڑیں۔ایسی کھیل ذہنی نشو ونما کا موجب نہیں ہوسکتی اور نہ ہی جسم اس سے پورا فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔میں نے بار ہا اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے اور بتایا ہے کہ یہ کام نہایت آسانی سے کیا جاسکتا ہے اور ورزش کے شعبہ کو مفید بلکہ مفید ترین بنایا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس میں تین باتوں کا خیال رکھا جائے۔ایک تو یہ کہ وہ آئندہ زندگی میں بھی مفید ثابت ہونے والی ہوں نہ صرف بچپن میں بلکہ بڑے ہو کر بھی فائدہ دینے والی ہوں۔بچپن میں کھیل کا جو فائدہ ہوتا ہے وہ بھی حاصل ہو، جسم بھی مضبوط ہو اور ذہن بھی ترقی کرے۔بچپن میں جو کہانیاں بچوں کو سُنائی جاتی ہیں اُن کا مقصد ایک تو یہ ہوتا ہے کہ بچہ شور نہ کرے اور ماں باپ کا وقت ضائع نہ کرے لیکن اگر وہ کہانیاں ایسی ہوں جو آئندہ زندگی میں کی بھی فائدہ دیں تو یہ کتنی اچھی بات ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں کہانیاں سُنایا کرتے تھے۔کہانیاں سُنانے کا جو فائدہ اس وقت ہوتا ہے وہ بھی ان سے حاصل ہوتا تھا۔اگر اُس وقت آپ وہ کہانیاں نہ سُناتے تو پھر ہم شور مچاتے اور آپ کام نہ کر سکتے۔پس یہ