خطبات محمود (جلد 20) — Page 82
خطبات محمود ۸۲ سال ۱۹۳۹ء فوجی افسروں نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ قلعہ پر تو ہیں رکھ کر چلا دی جائیں اور بادشاہ نے بھی ان کے کی مشورہ کو قبول کر لیا تو انگریزی فوج کی طرف سے زینت محل کو پیغام پہنچا کہ اگر تم نے اس موقع پر تو ہیں چلنے دیں تو تمہاری تمام اُمید میں ہوا ہو جائیں گی۔تر یا چر ترلے تو ہمارے ملک میں مشہور ہی ہے۔جب بادشاہ نے تو ہیں چلانے کا حکم دیا تو بیگم کو بناوٹی طور پر غش پرخش آنے لگ گئے اور اُس نے بادشاہ سے کہا کہ توپ کی آواز سے میرا دل دہل جاتا ہے۔اگر آپ نے تو پوں کا چلنا بند نہ کیا تو میں مرجاؤں گی۔پس خدا کے لئے توپوں کا چلنا بند کرائیں اور اگر تو ہیں چلانا ضروری ہی ہیں تو اپنے ہاتھ سے پہلے مجھے قتل کر دیں تا کہ میں ان کی آواز نہ سُن سکوں۔بادشاہ بھی دھو کے میں آگئے اور گولہ باری کا حکم منسوخ کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایک ہی مقام جہاں سے کامیابی کے ساتھ انگریزی فوجوں پر حملہ ہو سکتا تھا اُس پر سے گولہ باری بند کر دی گئی اور انگریزی فوجیں غالب آ گئیں۔خود بادشاہ کا وزیر اعظم اندر سے انگریزوں کے ساتھ ملا ہو ا تھا اور انگریزوں کو با قاعدہ اندرونی خبریں پہنچتی رہتی تھیں۔اودھ کی حکومت بھی اسی طرح تباہ ہوئی وہاں کے لوگوں کا تمام روپیہ کلکتہ کے انگریزی بینک میں جمع تھا۔جب انگریزوں نے اس علاقہ پر حملہ کیا تو اُنہوں نے لوگوں کو کہلا بھیجا کہ اگر تم نے ذرا بھی ہمارے خلاف آواز اُٹھائی یا مقابلہ کیا تو تمہارا تمام روپیہ ضبط کر لیا جائے گا۔جب تک ان کے روپے جمع نہیں تھے اُس وقت تک تو انہیں یہ لالچ دیا گیا کہ اگر تم اپنے روپے ہمارے بنک میں جمع کرو گے تو تمہیں بہت کچھ سُو د ملے گا اور جب رو پیہ جمع ہو گیا اور اودھ پر اُنہوں نے حملہ کی تیاری کی تو سب کو نوٹس دے دیا کہ اگر تم نے ہمارا مقابلہ کیا تو سب روپیہ ضبط کر لیا جائے گا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب انگریزی فوج اندر داخل ہوئی تو ایک شخص بھی اُن کے مقابلہ کے لئے کھڑا نہ ہوا۔اب اس میں بھلا انگریزوں یا کسی اور قوم کا کیا قصور ہے؟ یہ خود اپنی قوم کا قصور ہے کہ لوگ اپنے اخلاق کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کرتے۔جب کبھی ہندوستان میں کانگرس کا شور بلند ہوا ہے میں نے ہمیشہ انہیں یہی کہا ہے کہ تم اُس وقت تک حکومت نہیں کر سکتے جب تک لوگوں کے اندر بد دیانتی پائی جاتی ہے۔ہاں اگر قومی طور پر تم دیانت کو لوگوں کے اندر قائم کر دو