خطبات محمود (جلد 20) — Page 81
خطبات محمود ۸۱ سال ۱۹۳۹ء اس رشوت کو قبول کر لیتے ہیں اور انہی چالبازیوں کے ساتھ اور انہی رشوتوں کے ذریعہ یور بین اقوام جو نہایت قلیل تعداد میں ہندوستان میں آئیں ، ہندوستان کے ایک گوشہ سے بھرے ہوئے بادل کی طرح بڑھنا شروع کر دیتی ہیں اور سارے مُلک پر چھا جاتی ہیں۔مرہٹوں کی طاقت یا نظام حیدرآباد کی طاقت کے مقابلہ میں مدراس میں انگریزوں کی دسویں حصہ کے برابر بھی طاقت نہیں تھی۔اسی طرح سراج الدولہ کی طاقت کے مقابلہ میں بنگال میں انگریزوں کی طاقت دسویں حصہ کے برابر بھی نہ تھی مگر باوجود اس کے مقابلہ میں وہ ہار جاتے ہیں اور انگریز جیت جاتے ہیں۔اس تمام فتح اور شکست کی تہہ میں ایک ہی وجہ نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ بڑے بڑے وزراء اور افسر یا رشوت خور تھے یا وہ کسی اور لالچ میں آ جاتے تھے۔اگر یہ بددیانتی نہ ہوتی تو کبھی ہندوستان پر انگریزی حکومت قائم نہ ہو سکتی لیکن اس بد دیانتی کی موجودگی میں اگر انگریزی حکومت نہ ہوتی تو فرانسیسی حکومت ہوتی۔اگر فرانسیسی حکومت نہ ہوتی کی تو پرتگیزی حکومت ہوتی ، اگر پرتگیزی حکومت نہ ہوتی تو کوئی اور حکومت ہوتی۔بہر حال یہ ملک اس قابل نہ تھا کہ اپنا بوجھ آپ اُٹھا سکتا۔بد دیانتی کے بوجھ نے ان لوگوں کی کمریں کم کر دی تھیں اور لالچ کے مارے ان لوگوں کو ایسا جھکا دیا تھا کہ وہ شریف لوگوں میں سیدھا چلنے کے قابل نہیں رہے تھے۔وہ شکار تھے دُنیا کا۔اگر انگریز نہ آتے تو کوئی اور آتا۔بہر حال وہ خود اپنی حکومت سنبھالنے کے نا قابل تھے۔اوپر سے لے کر نیچے تک سب جگہ بد دیانتی پائی جاتی تھی۔پھر وسط ہند میں آ کر لکھنؤ اور اس کے بعد دہلی میں جو کچھ ہوا وہ بھی اسی بد دیانتی کا کرشمہ ہے۔غدر کی بغاوت جب ہوئی تو اُس وقت ہندوستانیوں نے چاہا کہ اپنے آپ کو انگریزوں کے تسلط سے آزاد کر لیں اور ایسے کئی مواقع آئے جبکہ دہلی کی حکومت غالب آنے کے بالکل قریب تھی لیکن خود ملک کے اندرونی غذاروں اور بد دیانتوں نے ان مواقع کو ضائع کر دیا۔یہ مشہور تاریخ واقعہ ہے کہ ایک موقع پر انگریزی فوج پر نہایت آسانی کے ساتھ گولہ باری کی جاسکتی تھی۔میں نے خُود دہلی میں وہ موقع دیکھا ہے مگر زینت محل جو بادشاہ کی چہیتی ملکہ تھی اور اُسے کہا تھا کہ اگر تم ہمارا ساتھ دو گی تو تمہارے بیٹے کو تخت مل جائے گا۔جب دہلی کے کی