خطبات محمود (جلد 20) — Page 62
خطبات محمود ۶۲ سال ۱۹۳۹ء ان میں سے بعض تو ایسی ہیں کہ وہ ہمیشہ ہی ان کے کام کے ساتھ وابستہ رہنی چاہئیں اور بعض ایسی ہیں جو مختلف زمانوں میں مختلف شکلیں بدل سکتی ہیں۔ان کے فرائض میں سے پہلا فرض یہ ہونا چاہئے کہ اپنے ممبروں میں قومی رُوح پیدا کریں۔قوم کا لفظ آجکل اتنا بد نام ہو چکا ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الا اول اس سے چڑھ جایا کرتے تھے۔جب کوئی شخص آپ کے سامنے کہتا کہ ہماری قوم " تو آپ فرماتے کہ ”ہماری قوم“ کیا ہوتی ہے؟ ہمارا مذہب کہنا چاہئے لیکن در حقیقت بات یہ ہے کہ جہاں یہ لفظ نسلی امتیاز پر دلالت کرتا ہے وہاں مذہبی امتیاز پر بھی دلالت کرتا ہے۔۔چنانچہ خود قرآن کریم میں بھی اس کی کی مثال موجود ہے۔جیسا کہ فرمایا اِن قومی اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ت ا حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کا اعتراض بوجہ اس غلط استعمال کے تھا جو آجکل اس لفظ کا ہو رہا ہے اور جب کسی لفظ کا اس طرح غلط استعمال عام ہو جائے تو بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔جب قوم کا لفظ نسلی یا سیاسی جتھے کے معنوں میں استعمال ہونے لگے اور مذہب کا جتھہ اس سے نہ مُراد نہ ہو تو اس کا یہ استعمال قابلِ اعتراض ہے کیونکہ دُنیا میں اسلام کی غرض یہ ہے کہ تمام سیاسی ، نسلی اور اقتصادی جتھوں کو مٹادے اور بنی نوع انسان میں ایک عام اخوت کی تعلیم رائج کرے۔پس اس لفظ کے غلط استعمال کی وجہ سے اگر کبھی اس لفظ کو استعمال سے خارج کر دیا جائے تو یہ کوئی بُری بات نہیں لیکن اپنے وسیع معنوں میں یہ لفظ بُر انہیں۔غرض خدام الاحمدیہ کو یا درکھنا چاہئے کہ قومی اور ملی رُوح کا پیدا کرنا ان کے ابتدائی اصول میں سے ہے۔اس سال جلسہ سالانہ پر میں نے جو تقریر کی تھی اس میں بتایا تھا کہ نبوت کی پہلی کی غرض ملتی رُوح کا پیدا کرنا تھا۔چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کی نبوت اور شریعت کا مرکزی نقطہ ملتی روح کا پیدا کرنا ہی تھا۔اُس وقت لوگ گناہ سے واقف نہ تھے اور نہ ہی ثواب کی زیادہ کی را ہیں ابھی تک کھلی تھیں۔اُس وقت حضرت آدم کی نبوت کی غرض یہی تھی کہ تعاون کی روح جو ایک حد تک اُبھر چکی تھی اُسے مکمل کریں اور اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ملی رُوح کا سبق وہ سبق ہے جو ہمارے پہلے روحانی باپ نے دیا اور سب سے پہلا الہام جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا