خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 589

خطبات محمود ۵۸۹ سال ۱۹۳۹ء نکل جائیں تو ہم اصل تعداد معلوم کر کے باقی جماعت کو تحریک کریں اور کہیں کہ بہادر و ذرا ہمت کرو اور اس پانچ ہزار کی تعداد کو پورا کرو مگر اب ہم کسی صحیح فیصلہ پر نہیں پہنچ سکتے کیونکہ ہمیں نظر تو یہ آتا ہے کہ تحریک جدید میں حصہ لینے والے پانچ ہزار چھ سو ہیں مگر ممکن ہے کہ وہ چار ہزار چھ سو ہوں اور باقی نادہند ثابت ہوں۔میں جیسا کہ پہلے بھی بتا چکا ہوں اگر تحریک جدید میں حصہ لینے والوں کی تعداد پانچ ہزار سے اوپر چلی جائے اور چھ ہزار کے قریب پائی جائے جب بھی پیشگوئی کے پورا ہونے میں کوئی نقص نہیں ہوسکتا کیونکہ پانچ اور چھ ہزار کے درمیان کوئی بھی تعداد ہو وہ پانچ ہزا ر ہی کہی جائے گی اور کسر کا حصہ شمار نہیں ہو گا۔پس اگر آٹھ نوسو کے قریب زیادہ بھی ہو جا ئیں تب بھی کوئی حرج نہیں لیکن ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ پانچ ہزار کی بجائے چار ہزار نو سو یا چار ہزار نو سو ننانوے سپاہی حاصل ہوں۔ہاں اگر پانچ ہزار نو سو یا پانچ ہزار نو سو نانوے ہو جائیں تو یہ کشف کے خلاف نہیں ہو گا مگر یہ تمام مشکل ہمیں نادہندوں کی وجہ سے پیش آ رہی ہے جن کے متعلق ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہماری لسٹ میں ہیں حالانکہ حقیقتاً ہماری لسٹ میں نہیں ہوتے۔اگر وہ نکل جائیں تو ہمیں پتہ لگ جائے کہ ہمیں اس غرض کے لئے کتنی محنت اور کرنی چاہئے۔پس جس قدر نادہند ہیں وہ تحریک جدید کے کام میں روک بن رہے ہیں۔اس لئے یا تو وہ اپنے اپنے چندہ کو ادا کر دیں اور یا اپنے نام ہمارے رجسٹر میں سے کٹوا لیں تا جماعت کے دوسرے با ہمت دوستوں کی طرف ہم توجہ کریں۔اسی طرح جو سال ختم ہو گیا ہے اُس کی میعاد گو ۳۰ نومبر تک ہی تھی مگر پھر بھی جن دوستوں کے وعدے ابھی پورے نہیں ہوئے اُنہیں کوشش کرنی چاہئے کہ ۳۱ / جنوری تک اپنے وعدوں کو پورا کر دیں۔پس آج میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہے ہوں کہ جن دوستوں کے ذمہ تحریک جدید کے گزشتہ چار سال میں سے ایک یا ایک سے زیادہ سالوں کا چندہ ابھی واجب الادا ہے وہ یا تو اپنے وعدوں کو جلد سے جلد پورا کریں اور اگر وہ ی اپنے وعدوں کو پورا نہیں کر سکتے تو یا ہم سے معافی لے لیں یا اپنے نام کٹوالیں تا کہ نہ تو وہ خود گنہگار بنیں اور نہ بیچ لسٹ کے متعلق ہمیں کوئی دھوکا لگے۔