خطبات محمود (جلد 20) — Page 538
خطبات محمود ۵۳۸ سال ۱۹۳۹ء فضل سے ان کی زندگی میں ہی وہاں جماعتیں قائم ہو گئیں۔اب تو مجھے معلوم نہیں وہ زندہ ہیں یا مر گئے لیکن جماعتیں وہاں ان کی زندگی میں ہی قائم ہوگئی تھیں اور اب شام، فلسطین ، مصر وغیرہ ممالک میں ایسے ایسے مخلص احمدی موجود ہیں کہ ان پر رشک آتا ہے۔ان میں ایسے بھی ہیں جن کو احمدیت کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ایسے بھی ہیں جو زخمی کئے گئے ، ایسے بھی ہیں جو ملک بدر کئے گئے اور جن کی جائدادیں اور مال و اسباب لوٹ لئے گئے مگر وہ پھر بھی استقلال اور ہمت کے ساتھ تبلیغ میں مصروف ہیں اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کو ہر جگہ ترقی حاصل ہو رہی ہے۔پس ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پیج کو جو آج ہم بور ہے ہیں ضرور ترقی دے گا۔ہمارا فرض صرف یہی ہے کہ بیج بونے کی پوری پوری کوشش کریں جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں۔اب ہماری جدو جہد کا چھٹا سال شروع ہوتا ہے اور اس لحاظ سے اب ہم چندے کے زمانہ کے لحاظ سے چوٹی پر پہنچ کر نیچے اُتر رہے ہوں گے۔اس سال مالی قربانی کے زمانہ کا ماضی بڑھ جائے گا اور مستقبل گھٹ جائے گا۔اس وقت تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رویا کے مطابق جو بظاہر تو اسی پر چسپاں ہوتا ہے وَالله أَعْلَمُ بِالصَّوَاب۔۵۵۰۰ احباب کے وعدے آئے ہیں جن میں ساڑھے چار ہزار ادا ابھی کر چکے ہیں باقی کر رہے ہیں اور ابھی ۳۰ /نومبر تک میعاد بھی باقی ہے۔بعض لوگ مزید مہلت لے لیتے ہیں اور بعض نے لے بھی لی ہے کہ ہم دسمبر یا جنوری یا فروری میں ادا کر دیں گے اور اس طرح ممکن ہے پانچ ہزار پورے ہو جائیں یا کچ کچھ بڑھ جائیں لیکن اگر پانچوں سالوں کو دیکھا جائے تو یہ تعدا داڑھائی ہزار کے قریب رہ جاتی ہے کیونکہ بعض نے ایک سال کا ادا نہیں کیا ، بعض نے دو سال کا اور بعض نے تین سال کا۔گو وہ کی ابھی وعدے کر رہے ہیں کہ ضرور ادا کر دیں گے لیکن اس جدو جہد میں شریک ہونے والوں کی جو فہرست تیار ہوگی اس میں وہی لوگ شامل ہوں گے جو دس سالہ میعاد کو پورا کریں گے۔بعض لوگوں نے بے شک معافی لے لی ہے اور ان پر وعدہ خلافی کا جرم عائد نہیں ہوتا لیکن میں یہ نہیں کی سمجھ سکتا کہ ان میں سے بعض یہ شکایت کیوں کرتے ہیں کہ جب آپ نے ہمیں معاف کر دیا تو پھر اس فہرست میں ہمارا نام کیوں نہ آئے۔یہ محض نفس کا دھوکا ہے۔ایک شخص وعدہ کرتا جائے کی اور معافی لیتا جائے تو کیا وہ ثواب کا مستحق ہو جائے گا ؟ معافی کے معنی تو صرف یہ ہیں کہ وہ گناہ کی