خطبات محمود (جلد 20) — Page 51
خطبات محمود ۵۱ سال ۱۹۳۹ء اس میں درحقیقت اللہ تعالیٰ نے یہی بتایا ہے کہ جب بہت بڑے اجتماع ہوں تو اس وقت حلقوں کی اور دائروں کا مقرر کرنا ضروری ہوتا ہے۔مثلاً ہر محلہ والے اپنے اپنے محلہ کے پریذیڈنٹ یا کسی اور افسر کی ہدایات کے ماتحت کام کریں یا لوگوں کے حلقوں کی کوئی اور تقسیم ہوسکتی ہو تو وہ کر لی جائے۔بہر حال ہر شخص کسی نہ کسی حلقہ میں ہو اور کام شروع کرنے سے دو دن پہلے ہر شخص کو بتاتی دیا جائے کہ تم نے فلاں حلقہ میں فلاں کام کرنا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس طریق پر اگر کام کیا جائے تو ایک تو لوگوں کو اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ہو جائے گی دوسرے اس مشتر کہ جد و جہد کے نتیجہ میں کوئی مفید کام بھی ہو جائے گا۔اب دارالرحمت ، دار الفضل اور دوسرے محلوں کو دیکھ لو اُن کی گلیاں کس قدر گندی ہیں۔پھر اُن محلوں میں کئی گڑھے ہیں ، اونچی نیچی جگہیں ہیں اور جب بارش ہوتی ہے تو ان گڑھوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے جس کے نتیجہ میں نہ صرف ملیر یا اور ٹائیفائڈ پھیلتا ہے بلکہ بعض دفعہ انسانی جانیں بھی تلف ہو جاتی ہیں۔تھوڑا ہی عرصہ ہوا ایک خطرناک حادثہ یہاں ہوا اور وہ یہ کہ حافظ غلام رسول صاحب آبادی کی آخری بیوی کا اکلوتا لڑکا ایسے ہی ایک پانی سے بھرے ہوئے گڑھے میں گر کر ڈوب گیا۔یہ ہماری غفلتوں کا ہی نتیجہ ہے اگر ہم غفلت نہ کرتے اور گڑھوں کو اب تک پُر کر دیتے تو یہ واقعہ کیوں ہوتا ؟ کہا جاتا ہے کہ جس زمین میں یہ واقعہ ہوا ہے اس میں ہندوؤں کا بھی دخل ہے لیکن اگر اس کے گرد دیوار ہی بنا دی جاتی تب بھی یہ واقعہ نہ ہوتا اور اس ایک کی واقعہ کے بعد اب یہ کب اطمینان ہو گیا ہے کہ آئندہ ایسا واقعہ کوئی نہیں ہو گا مگر اس دن تو جس نے یہ واقعہ سُنا افسوس کر دیا لیکن دوسرے ہی دن اثر جاتا رہا اور یہ خیال بھی نہ رہا کہ ہمیں اس کی قسم کے گڑھوں کو پُر کرنے کا فکر کرنا چاہئے تا کہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔اسی طرح پانی کی گندگی کی وجہ سے ہر سال ملیر یا آتا ہے اور دس دس پندرہ پندرہ دن ایک شخص بیمار رہتا ہے۔ملیریا کی بڑی وجہ یہی ہوتی ہے کہ گڑھوں میں پانی جمع رہتا ہے اور اس کی سڑاند کی وجہ سے کی پیدا ہو جاتے ہیں جو انسانوں کو کاٹتے اور ملیریا میں مبتلا کر دیتے ہیں۔اس بخار کی وجہ سے لوگ پندرہ پندرہ دن تک بیمار رہتے ہیں اور اگر دس دن بھی ایک شخص کے بیمار رہنے کی اوسط کی فرض کر لی جائے اور ایک گھر کے پانچ افراد ہوں تو سال میں ان کے پچاس دن محض ملیریا کی