خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 52

خطبات محمود ۵۲ سال ۱۹۳۹ء وجہ سے ضائع چلے جاتے ہیں۔حالانکہ اگر وہ چھ دن بھی کوشش کرتے تو ملیریا کو جڑ سے نابود کر دیتے مگر لوگ دوائیوں پر پیسے الگ خرچ کرتے ہیں، تکلیف الگ اُٹھاتے ہیں ، طاقتیں کی الگ ضائع کرتے ہیں، عمریں الگ کم ہوتی ہیں، موتیں الگ ہوتی ہیں اور پھر سال میں پچاس دن بھی ان کے ضائع چلے جاتے ہیں۔مگر تھوڑا سا وقت خرچ کر کے قبل از وقت ان باتوں کا علاج نہیں کرتے۔وہ کام جو میں بتاتا ہوں اگر دوست کرنے لگ جائیں تو ان کی صحتیں بھی درست رہیں گی ، ان کے پیسے بھی بچیں گے ، ان کے محلوں کی شکل وصورت بھی اچھی ہو جائے کی گی ، ان کا نیک اثر بھی لوگ قبول کریں گے اور ان کے پچاس دن بھی بچ جائیں گے۔گویا خدا بھی راضی ہو جائے گا ، لوگ بھی تعریف کریں گے اور خود بھی فائدہ اُٹھائیں گے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ لوگ اس بات کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔وہ عدم صفائی کی وجہ سے جانی قربانیاں بھی کرتے ہیں، اپنے بیوی بچوں کو بھی تکلیف میں ڈالتے ہیں اور اپنے روپیہ کو بھی برباد کرتے ہیں مگر اس آسان سادہ اور صحت بخش طریق کو اختیار کرنے کے لئے شوق سے تیار نہیں ہوتے۔حالانکہ ملیر یا ایسا خطرناک اثر انسانی طبیعت پر چھوڑ جاتا ہے کہ وہ بچے جو ملیر یاز دہ ہوتے ہیں جب بڑے ہوتے ہیں تو ان کے دل بالکل مُردہ ہوتے ہیں، ان کی اُمنگیں کو تاہ ہوتی ہیں اور ان کے خیالات نہایت پست ہوتے ہیں اور جوان ہونے سے پہلے ہی وہ بوڑھے ہو چکے ہوتے ہیں حالانکہ اس کا علاج ان کے بس میں ہوتا ہے اور وہ اگر چاہیں تو آسانی سے ملیریا کا قلع قمع کر سکتے ہیں۔یہی حال صفائی کا ہے۔ہمارے ملک کے لوگ گندگی اور غلاظت کو دور کرنے کا خیال تو نہیں کرتے مگر بیماری کے ذریعہ اپنے اوقات اور اپنے اموال اور اپنی صحت کی بربادی قبول کر لیتے ہیں۔ٹائیفائڈ ہمیشہ اُس گند اور پاخانہ کی وجہ سے پھیلتا ہے جو گلیوں میں جمع رہتا ہے اور جس میں ایسے مریضوں کے پاخانے بھی شامل ہوتے ہیں۔وہ پاخانہ پہلے تو کی گلیوں میں ہوتا ہے پھر جب بارش ہوتی ہے تو زمین میں جذب ہو جاتا ہے اور پھر کنوؤں کے پانی میں مل کر لوگوں کے پینے میں استعمال ہونے لگتا ہے اور اس طرح تمام شہر میں ٹائیفائڈ پھیل جاتا ہے۔قادیان کی نئی آبادی نہایت کھلے مقامات میں ہے اور بڑے بڑے شہروں کی آبادی کے مقابلہ میں نہایت پر فضا اور صحت بخش ہے اور اگر ظاہری حالت کو دیکھا جائے تو یہاں کے کی