خطبات محمود (جلد 20) — Page 464
خطبات محمود ۴۶۴ سال ۱۹۳۹ء اُس کی قوم پر عذاب نازل نہیں ہوتا مگر عام طور پر اُس کے یہ معنی کئے جاتے ہیں کہ جب نبی کسی جگہ موجود ہو تو اُس جگہ اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا کرتا لیکن اگر ہم گہری نظر سے انبیاء کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات ہمیں درست معلوم نہیں ہوتی۔انبیاء کی زندگی کی اور تاریخوں سے قطع نظر کرتے ہوئے اگر ہم تاریخ کا وہی حصہ لے لیں جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے تو اس سے ہی متعدد مثالیں اس امر کی مل سکتی ہیں کہ انبیاء کی زندگی بلکہ ان کی موجودگی میں قوموں پر عذاب نازل ہوئے چنانچہ سب سے پہلے ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کو لیتے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی بالکل ابتدائی آیتوں کی یعنی سورۃ بقرہ میں ہی فرماتا ہے کہ اُنہوں نے بچھڑے کی پوجا کی جس پر انہیں حکم دیا گیا کہ اقْتُلُوا انْفُسَكُمْ کے یعنی اگر تم بچنا چاہتے ہو تو اپنے نفسوں کو قتل کرو اور بائبل کہتی ہے کہ اس کی وقت ہزار ہا آدمی مارے گئے۔سے اب یہ ایک عذاب تھا جو اُس قوم پر آیا مگر یہ عذاب حضرت کی موسیٰ علیہ السلام کی موجودگی میں ہی آیا۔وہ قوم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ چلی جا رہی تھی کہ درمیان میں ہی یہ واقعہ ہو گیا یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام جب پہاڑ پر گئے تو ان کی قوم نے بعد میں بچھڑے کی پرستش شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کی آپ کو الہاما خبر دی جس پر آپ پہاڑ سے واپس تشریف لائے اور پھر اُن کی قوم کو یہ سزا ملی جس سے بقول بائیل ہزاروں آدمی ہلاک ہو گئے۔دوسرا عذاب جس کا قرآن کریم سے ثبوت ملتا ہے اُس وقت اُتر ا جب اُن کی پرمَن وَسَلوی نازل ہوا۔یہ بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا ہی واقعہ ہے۔من وسلویٰ کے نزول کے بعد جب اُنہوں نے بے صبری کا اظہار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر ذلت اور مسکنت کا عذاب نازل کیا۔اسی طرح قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک دفعہ بنی اسرائیل نے مخاطب کر کے کہا کہ اے موسیٰ جب تک ہم خدا کو دیکھ نہ لیں تیری کوئی بات نہیں مان سکتے۔اس وقت بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ان پر عذاب نازل کیا۔یہ واقعہ بھی کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موجودگی میں ہوا۔اسی طرح قرآن کریم میں آتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ جاؤ اُس موعود ملک میں داخل ہو جاؤ