خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 463

خطبات محمود ۴۶۳ سال ۱۹۳۹ء ایسے خطبات لکھ بھی لیتے ہیں اور چونکہ وہ نا واقف ہوتے ہیں اس لئے خلاصہ کے طور پر ہی وہ لکھ سکتے ہیں اور ان کا لکھا ہوا خطبہ جو بہت چھوٹا ہوتا ہے بعض دفعہ شائع بھی ہو جاتا ہے لیکن اس کی خطبہ کا چونکہ کوئی خلاصہ بھی میری نظر سے نہیں گزرا اور چونکہ اس کا مضمون ایسا ہے کہ میں سمجھتا ہوں وہ جماعت کے ان دوستوں کے لئے جو عملی زندگی میں کوئی تغیر پیدا کرنا چاہتے ہیں مفید ہو سکتا ہے۔اسی طرح ان دوستوں کو بھی جو قرآن کریم کی تحقیق اور اس کے علوم کی دریافت میں کی لگے رہتے ہیں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس مضمون کو دوبارہ خطبہ میں بیان کر دوں۔گوکئی مضامین اگر چہ بار بار مختلف رنگوں میں بیان ہوتے رہتے ہیں مگر تکراری کے طور پر ایک ہی مضمون کو دوبارہ بیان کرنا مجھ پر گراں گزرا کرتا ہے۔اس خطبے کا محترک در اصل مولوی شیر علی صاحب کا ایک خطبہ جمعہ ہو ا تھا جو اُنہوں نے میری بیماری کے دنوں میں پڑھا۔اِس کا مضمون تو اور ہے مگر اُس وقت میں نے جو آیتیں پڑھی ہیں کی ان میں سے ایک آیت میں نے اس خطبہ میں بھی دیکھی۔میں نے وہ سارا خطبہ نہیں پڑھاتی صرف سرسری طور پر میں نے اس پر نگاہ ڈالی تو ایک آیت میرے سامنے آگئی جس پر مجھے خیال کی آیا کہ بعض سوالات ایسے ہیں جو اس آیت کے متعلق عام طور پر دلوں پر پیدا ہوتے رہتے ہیں مگر ان کے حل کی طرف بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔وہ آیت جو منی طور پر ان کے خطبہ میں آگئی تھی اور جس سے مجھے اس مضمون کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے یہ ہے کہ مَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ کہ اللہ تعالیٰ کی شان کے یہ شایاں نہیں ہے کہ وہ ان پر عذاب نازل کرے و انت فيهم در آنحالیکہ تو ان میں موجود ہو د ما كَانَ اللهُ مُعد بهم اسی طرح خدا یہ نہیں کر سکتا کہ وہ ان پر عذاب نازل کرے۔دھم يستغفرون اور وہ استغفار کر رہے ہوں۔اس آیت میں استغفار کا حصہ تو بالکل واضح ہے کہ جو قو میں سچے دل سے استغفار کرتی رہتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا عذاب اُن پر نازل نہیں ہوتا مگر یہ جو پہلا حصہ ہے کہ ما كان الله يُعَذِّبَهُم و أنت فيهم که خدا ان پر عذاب نازل نہیں کر سکتا اس حالت میں کہ تو ان میں موجود ہو۔یہ حصہ بہت حد تک قابل غور اور لائق توجہ ہے۔یہ تو سارے ہی تسلیم کرتے ہیں کہ اس آیت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جب تک کوئی نبی زندہ رہے۔