خطبات محمود (جلد 20) — Page 437
خطبات محمود ۴۳۷ سال ۱۹۳۹ء کرنی چاہئے۔یہ کیا کہ موسی" جو آج سے دو تین ہزار سال پہلے ہوا ہے اُس کی باتیں مانی جائیں۔اس کے بعد ہم روس کو لیتے ہیں، روس میں مذہب ہے ہی نہیں۔دہریت ہی دہریت ہے اور اس دہریت کو پھیلانے کے لئے وہ پورا زور لگا رہا ہے گومنہ سے وہ انصاف کا دعویٰ کرتا ہے مگر یہ دعویٰ محض دھوکا ہے۔چنانچہ روسی حکومت کہتی ہے کہ انسانی فکر میں آزادی ہونی چاہئے اور کسی سے جبراً کوئی عقیدہ نہیں منوانا چاہئے اور اس اصل کی تشریح وہ یہ کرتے ہیں کہ ماں باپ کو کوئی حق نہیں کہ بچہ کو اپنے مذہب کی تعلیم دیں بچہ جب جوان ہو جائے وہ جو مذہب چاہے قبول کر لے۔نہ حکومت اُسے کوئی مذہب سکھائے اور نہ ماں باپ۔اب بظاہر یہ تعلیم منصفانہ معلوم ہوتی ہے لیکن ادنی فکر سے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ محض دھوکا ہے کیونکہ مذہب تو ایک مثبت بات ہے اور سکھانے سے ہی آسکتی ہے لیکن لامذہبیت اور اور دہریت ایک منفی چیز کا نام ہے کی جسے خدا کا علم نہ دیا جائے وہ خالی الذہن نہیں ہو گا بلکہ وہ دہر یہ ہوگا کیونکہ جسے خدا تعالیٰ کا علم نہ ہو اُسی کو دہر یہ کہتے ہیں اور وہی لا مذہب کہلاتا ہے۔غرض یہ صاف بات ہے کہ مذہب تو سکھانے سے ہی آئے گا بغیر سکھائے مذہب کس طرح آ سکتا ہے؟ مگر وہ کہتے ہیں نہ ہم مذہب کی تعلیم دیتے ہیں نہ تم مذہب کی تعلیم دو اور اسے خود بخود جو جی چاہے سیکھنے دو۔اب جبکہ اُسے کوئی سکھانے والا ہی نہیں ہوگا تو وہ سیکھے گا کیا ؟ دہریہ نے بھلا کسی کو کیا سکھانا ہے۔وہ تو نفی کا قائل ہے اور نفی کا قائل دوسرے کو کیا سکھا سکتا ہے۔جو شخص کسی چیز کے متعلق کہتا ہے کہ ” ہے وہی اس چیز کے متعلق دلائل بھی دیا کرتا ہے مگر جو کہے کہ کچھ نہیں اُس نے دوسروں کو سکھانا ہی کیا ہے اور اسے ضرورت ہی کیا ہے کہ تعلیم دے مگر وہ اپنی طرف سے بڑے منصف مزاج بنتے ہیں اور کہتے ہیں نہ تم بچوں کو کچھ سکھاؤ اور نہ ہم سکھاتے ہیں۔حالانکہ یہ بات صاف ہے کہ خدا ہے کا پتہ تو بچے کو اُسی وقت لگے گا جب اُسے بتایا جائے گا کہ خدا ہے مگر خُدا نہیں ، سکھانے کی ضرورت نہیں جب کان میں خدا ہے کی آواز نہ پڑے گی تو ذہن خود بخود خُد انہیں کا سبق سیکھ لے گا۔پھر ہمارے مبلغ وہاں جاچکے ہیں اور ان کا عملی تجر بہ حکومت روس کے متعلق جو کچھ ہے وہ بھی نہایت ہی تلخ ہے۔مولوی ظہور حسین صاحب جب وہاں تبلیغ کے لئے گئے تو حکومت روس انہیں سات سات دن کا فاقہ دیتی اور کہتی کھانا ہے تو سور کا گوشت کھاؤ ورنہ ہم تمہیں کچھ نہیں