خطبات محمود (جلد 20) — Page 433
خطبات محمود ۴۳۳ سال ۱۹۳۹ء قائم ہو جا ئیں جو تبلیغ کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتیں مگر بتاؤ کیا کسی احمدی کے مُنہ کلمات نکل سکتے ہیں ؟ اگر نہیں تو پھر اعتراض کیا ہوا؟ میں سمجھتا ہوں ہر احمدی بلکہ ہر وہ شخص جو کسی نہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہے ایک ساعت کے لئے بھی یہ کہنا تو الگ رہا یہ خیال کرنا بھی گناہ سمجھے گا کہ دُنیا سے وہ نظام تو مٹ جائے جس میں تبلیغ کی آسانیاں ہوں اور وہ نظام قائم ہو جائے جس میں تبلیغ پر پابندیاں ہوں اور یہ کہ اگر ایسا نظام قائم ہو جائے تو وہ اس کی کچھ پرواہ نہیں کریں گے۔میرے نزدیک کسی مذہبی آدمی کے دل اور دماغ میں اس قسم کا خیال نہیں کی آسکتا۔دوسری صورت اعتراض کی یہ بنتی ہے کہ کوئی شخص کہے اس قسم کی کوئی تبدیلی ممکن ہی نہیں یہ محض ایک وہم ہے۔ایسی کوئی تبدیلی ہو ہی نہیں سکتی۔اس اعتراض کی آگے دو صورتیں ہیں یا تو کی وہ یہ کہے کہ انگریز ہار ہی نہیں سکتے انہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسی طاقت اور قوت حاصل ہے کہ یہ کسی دشمن سے شکست نہیں کھا سکتے۔اس صورت میں اعتراض یہ ہوگا کہ جب اس قسم کا کوئی کی موقع آ ہی نہیں سکتا اور انگریزوں کا شکست کھانا بالکل ناممکنات میں سے ہے تو یہ کہنا کہ اگر یہ ہار جائیں اور ان کی جگہ کوئی اور ایسی حکومت آ جائے جو تبلیغ کی اجازت نہ دے تو میں زندگی پر موت کو ترجیح دوں گا بے فائدہ ہے۔گویا اس صورت میں تبلیغ کی آزادی کی اہمیت تو تسلیم کی جائے گی مگر ساتھ ہی کہا جائے گا کہ جب انگریز ہار ہی نہیں سکتے تو اس قسم کے خدشات پیدا کی کرنے کا کیا مطلب؟ مگر یہ بھی بالکل غلط ہے کیونکہ کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس کے ماتحت یہ یقینی طور پر کہا جا سکتا ہو کہ انگریزی حکومت ہار نہیں سکتی اور نہ خدا تعالیٰ کا کوئی ایسا وعدہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ انگریز ہمیشہ حکمران رہیں گے۔پس یہ صورت بھی درست نہ ہوئی۔دوسری کی صورت اِس اعتراض کی یہ ہو سکتی ہے کہ آپ کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ جو حکومتیں انگریزوں کی جگہ لیں گی وہ مذہب پر تشد د کرنے والی اور تبلیغ کو روکنے والی ہوں گی۔بالکل ممکن ہے وہ انگریزوں سے بھی زیادہ تبلیغ کی آزادی تسلیم کرنے والی ہوں اور اس طرح ان کے ماتحت رہتے ہوئے مذہب پر کسی قسم کی پابندی عائد نہ ہو۔گویا اس صورت میں اعتراض یوں بنے گا کہ انگریز ہار تو سکتے ہیں مگر دوسری حکومتیں اتنی بُری نہیں جتنا برا آپ انہیں سمجھتے ہیں۔وہ تبلیغ کی آزادی کی