خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 422

خطبات محمود ۴۲۲ سال ۱۹۳۹ء اور اندازہ کرنے والے کہتے ہیں کہ سپین کی جنگ میں اتنی ہزار کے قریب اٹلی والے مارے گئے لیکن انہوں نے اس بات کی کوئی پر وہ نہیں کی۔حالانکہ وہ جنگ ان کی جنگ نہیں تھی بلکہ سپین کے دو طبقے آپس میں لڑ رہے تھے اور اس کی وجہ جیسا کہ بڑے بڑے مبصرین اور مدبرین نے بیان کیا ہے یہی ہے کہ نئے جرمنی کو جنگ کی عملی تربیت کا کوئی موقع نہیں ملا تھا۔جرمن قیصروں کے زمانہ میں ہمیشہ لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں مگر بڑی جنگ کے بعد جب جرمن قوم کو ماتحت کر دیا گیا جنگی سامان اس سے لے لئے گئے اور اُس کی فوج کو محدود کر دیا گیا اُسے عملی رنگ میں کسی جنگ میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملا تھا۔پس اُنہوں نے ضروری سمجھا کہ سپین میں جو جنگ ہو رہی ہے اس میں ہم اپنے والنٹیئروں کو بھیج دیں تا کہ انہیں فوجی ٹریننگ حاصل ہو جائے۔چنانچہ وہ اس میں شریک ہوئے اور لڑے مگر بہر حال سپین کی جنگ میں ان کی کوئی ذاتی غرض نہیں تھی۔سپین میں وہ کسی مالی فائدہ کے لئے نہیں لڑے اُنہوں نے کوئی تجارتی فائدہ کی حاصل نہیں کیا اُنہوں نے ایک انچ زمین تک نہیں لی۔اُدھر لڑائی ختم ہوئی اور ادھر وہ اپنے گھروں کو واپس آگئے۔ان کی غرض صرف اتنی تھی کہ نوجوانوں کی عملی تربیت ہو جائے۔چنانچہ اب وہ اس ٹریننگ سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں اور اس جنگ میں ان کے پرانے تجربہ کار جرنیل بہت کم ہیں مگر وہ نوجوان جنہوں نے سپین کی جنگ سے تجربہ حاصل کیا وہ زیادہ ہیں اور وہی کام کر رہے ہیں۔پس گو بظا ہر اس وقت یہی نظر آتا تھا کہ حکومت جرمنی نے بلا وجہ اپنے ہزاروں آدمیوں کو مروا ڈالا مگر آج اسی کے نتیجہ میں ہزار ہاجر من عملی تربیت حاصل کر کے موجودہ جنگ میں کام کر رہا اور قوم کے لئے مفید ثابت ہو رہا ہے۔تو بڑھنے والی قوموں کے لئے یہ لازمی اور ضروری ہوتا ہے کہ وہ فوجی کاموں میں حصہ لیں جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ دُنیا میں دائمی امن ہو سکتا ہے وہ بالکل جھوٹے ہیں۔دنیا میں نہ کبھی دائمی امن پہلے ہوا اور نہ آئندہ ہو سکتا ہے۔اختلاف ہمیشہ رہے اور ہمیشہ رہیں گے اور قرآن کریم سے یہ امر واضح طور پر ثابت ہے۔پس خواہ دُنیا کتنی ہی تدبیر کرے کامل امن اور ہمیشہ کا امن کبھی میتر نہیں آسکتا اور اگر کامل امن اور ہمیشہ کا امن دُنیا میں حاصل نہیں ہوسکتا۔چیز اللہ تعالیٰ نے صرف اگلے جہان کے لئے ہی مخصوص کی ہوئی ہے تو یہ امر ضروری ہوا کہ