خطبات محمود (جلد 20) — Page 423
خطبات محمود ۴۲۳ سال ۱۹۳۹ء ہر قوم کے نوجوان جنگی تربیت حاصل کریں۔اگر وہ جنگی تربیت حاصل نہیں کریں گے تو دوسری قوموں کے مقابلہ میں وہ کبھی ٹھہر نہیں سکیں گے۔تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے اگر اور کوئی فائدہ نہ بھی ہو تو بھی محض اس وجہ سے کہ اس طرح جنگی تربیت حاصل کرنے کا ایک موقع مل رہا ہے۔ہمارے لئے اِس سے فائدہ اُٹھانا ضروری ہے اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ہماری جماعت کے سینکڑوں نوجوانوں نے شوق سے اس میں حصہ لیا اور اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کر دیا ہے لیکن اس بھرتی سے ہمیں ایک اور فائدہ بھی حاصل ہوا ہے اور وہ یہ کہ ہماری توجہ ایک اور اہم معاملہ کی طرف پھر گئی ہے۔اگر یہ بھرتی کا موقع نہ آتا تو نہ معلوم وہ بات کب تک ہماری نظروں سے اوجھل رہتی۔وہ بات یہ ہے کہ اس فوجی بھرتی کے نتیجہ میں یہ نہایت ہی افسوسناک امر ہمیں معلوم ہوا ہے کہ احمدی نو جوانوں کی صحتیں خطرناک طور پر گری ہوئی ہیں۔اگر بھرتی کا یہ موقع نہ ملتا تو شاید کی ہمیں اس کا علم دیر تک نہ ہوتا۔احمدی نوجوانوں کے وزن بالعموم اس وزن سے کم ہیں جتنا وزن اس عمر میں نو جوانوں کا ہوا کرتا ہے۔احمدی نوجوانوں کی نظریں بالعموم ان نظروں سے کم ہیں جتنی نظریں اس عمر میں نوجوانوں کی ہوا کرتی ہیں اور احمدی نوجوانوں کی کمریں بالعموم اس کی معیار سے بہت کمزور ہیں جتنی اس عمر میں نو جوانوں کی کمروں میں طاقت ہوا کرتی ہے اور یہ امرایسا خطرناک ہے جس کی جتنی جلد اصلاح ممکن ہو اتنی ہی جلدی کرنی چاہئے۔پس اگر اس کی فوجی تربیت میں شریک ہونے کے اعلان سے کوئی اور فائدہ نہ بھی ہو تب بھی اس ذریعہ سے ہمیں یہ جو فائدہ حاصل ہوا ہے یہ خود اپنی ذات میں بہت اہم ہے اور میں غور کر رہا ہوں کہ آئندہ نوجوانوں کے لئے ایسے قواعد تیار کئے جائیں جن کے نتیجہ میں ان کے تمام قومی کی حفاظت ہو اور جوا چھے بہادر اور تندرست نوجوان بنانے میں ہمارے مُحمد ہوں۔میرے نزدیک تمام نوجوانوں کا سالانہ معائنہ ہوتے رہنا چاہئے تا کہ ان کی صحت میں اگر کوئی نقص واقع ہو تو اس کی فوری اصلاح کی جاسکے اور چاہے جنگی بھرتی ہو یا نہ ہو جن ذرائع سے بھی ان نقصوں کی کی اصلاح ہو سکتی ہو اُن ذرائع کو کام میں لانا چاہئے۔غرض ایک تو ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ آئندہ نسل میں یہ نقص پیدا ہی نہ ہو اور