خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 418

خطبات محمود ۴۱۸ سال ۱۹۳۹ء فاتحانہ صورت میں داخل ہوئے اور اہل مکہ کو ذلت نصیب ہوئی۔یہ وہ خاص عذاب تھا جس کا ذکر تورات وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ان معنوں کی تصدیق قرآن کے اس مقام کے سیاق وسباق سے بھی ہوتی ہے جیسا کہ آتا ہے وَاذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا يُثْبِتُوكَ أوْ يَقْتُلُوكَ اَوْ يُخْرِجُوكَ، ويمكرُونَ وَيَمْكُرُ الله، والله خَيْرُ الماكرين A یعنی جب کا فریہ تدبیر کر رہے تھے کہ بند کر دیں تجھ کو یا قتل کر دیں تجھے یا نکال دیں تجھے اللہ بھی تدبیر کر رہا تھا اور اللہ بہتر تد بیر کرنے والا ہے۔انہوں نے تو اپنی حکومت کو محفوظ رکھنے کے لئے یہ فکر کیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ سے نکال دیا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اس خاص عذاب کی اس طرح تدبیر کی جس کا ذکر توریت کی پیشگوئی میں پایا جاتا ہے یعنی ان مشرکین کی حکومت تباہ کر دی گئی اور ان کو ذلت کا عذاب چکھایا گیا۔اس آیت میں اسی عذاب کا ذکر ہے اور یہ عذاب اس وقت تک اہلِ مکہ پر نہیں آ سکتا تھا جب تک آپ وہاں سے نکالے نہ جاتے اور حسب پیشگوئی مدینہ میں پناہ گزیں ہو کر قوت حاصل نہ کرتے۔دوسرا مفہوم اس آیت کا یہ ہے جو لفظ فسٹی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔کسی کی موجودگی علاوہ جسمانی طریق کے روحانی طور پر بھی ہو سکتی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے و اشربوا في قُلُوبِهِمُ العجل 2 جس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ان کے دلوں میں بچھڑا پلایا گیا۔بچھڑا تو سونے کا تھا وہ کس طرح پلایا جا سکتا تھا اور اگر پلایا بھی جاسکتا تو وہ تو معدے میں جاتا ، دل میں کس طرح پہنچ سکتا تھا۔مفسرین نے اشربوا پر لغوی طور پر غور کرنے کے بعد یہ مطلب نکالا ہے کہ بچھڑے کی محبت دل میں قائم کی گئی۔یہاں بھی آنت فيهم کے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ جب تک اے رسول تو ان کے دلوں میں محبوب رہے گا ان پر عذاب نہیں آئے گا۔پس ایسے لوگ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کامل محبت رکھتے ہوئے پوری اطاعت کے ساتھ زندگی بسر کریں گے وہ عذاب سے محفوظ رہیں گے اور وہ لوگ بھی جو کہ محبت اور عمل کے لحاظ سے تو کامل نہ ہوں گے مگر ان کے دل میں محبت ہو گی اور عمل کے لئے کوشاں رہتے ہوں گے اور جب کبھی ان سے کوئی نافرمانی سرزد ہو یا اتباع کامل نہ ہو سکے