خطبات محمود (جلد 20) — Page 403
خطبات محمود ۴۰۳ سال ۱۹۳۹ء۔کے معاملہ میں جب انگریزوں کو زک ہوئی تو ہندوستان، انگلستان ، افریقہ، آسٹریا اور کینیڈا وغیرہ کا انتظام اسی طرح بحال رہا اور اُسے کوئی ضعف نہ پہنچا صرف لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ انگریزوں کی کچھ ہیٹی ہوئی ہے تو ایک حد تک کہا جا سکتا تھا کہ انگریزوں کو یہ سزا ملی ہے لیکن اگر کی لوگ بھی خطرہ میں ہوں اور تمام برطانوی ایمپائر بھی خطرہ میں گھری ہوئی ہو جیسا کہ اس جنگ میں اس وقت تک کے آثار سے معلوم ہوتا ہے تو اس وقت میرے نزدیک اس قسم کی احمقانہ کی باتوں کی بجائے ہر شخص کو چاہئے کہ عقل سے کام لے اور بے عقلی یا غصہ سے پرائے شگون میں اپنا ناک کٹوانے کا مصداق نہ بن جائے۔میرے نزدیک آج ہمیں اپنے تمام اختلافات کو بھول جانا چاہئے اور انگریزوں سے پورا پورا تعاون کرنا چاہئے تا کہ جنگ کی بلائل جائے اور کی ہندوستان کے لوگ بھی اور برطانوی ایمپائر بھی اس عظیم الشان مصیبت سے بچ جائے۔جو کچھ پہلی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے وہ بھی یہی ہے کہ انگریزوں کا دور نسبتاً مُفید بابرکت اور اچھائی ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ تحریر فرمایا اس سے بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے کی کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء سے ایسی دُعائیں کبھی نہیں کروا تا جو اُس کے دین اور سلسلہ کے لئے مضر ہوں بلکہ حق یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی ایسی دُعائیں ہمیشہ خدا تعالیٰ کے تصرف کے ماتحت ہوتی ہیں۔عام آدمی نادانی سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ جیسے ہم دُعا کیا کرتے ہیں اسی طرح نبی نے بھی دُعا مانگی ہو گی۔حالانکہ عام آدمیوں کی دُعا اور نبیوں کی دُعا میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔نبیوں کی اکثر اہم دُعائیں ایسی ہی ہوتی ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے کرائی جاتی ہیں بلکہ بعض دفعہ ایسی دُعائیں بھی خدا تعالیٰ کروا دیتا ہے جن کو بعد میں اُس نے رڈ کر دینا ہوتا ہے اور اس میں بھی کئی حکمتیں ہوتی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ذریعہ سے اپنے بندوں کو بعض نئے علوم عطا فرماتا ہے۔حدیثوں میں آتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں سے کہتا ہے کہ تم مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا تے پس خالی دُعا کا سوال نہیں بلکہ اس دُعا کا سوال ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ خود کہتا ہے کہ مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی شفاعت کے متعلق ذکر کرتے ہوئے حدیثوں میں بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مجھ سے کہے گا تو