خطبات محمود (جلد 20) — Page 404
خطبات محمود ۴۰۴ سال ۱۹۳۹ء مانگ میں تجھے دوں گا۔اس پر میں اپنی اُمت کی شفاعت کروں گا۔سے تو انبیاء کی اور انبیاء کے رنگ میں رنگین لوگوں کی دُعائیں خاص حکمتوں کے ماتحت ہوتی ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ بجا اور موزوں ہے کہ وہ دُعائیں اللہ تعالیٰ کی قضاء وقدر کے ماتحت ہوتی ہیں اور خدا خودان کی زبان سے اس قسم کی دُعائیں نکلواتا ہے تا کہ ان کو قبول کرے۔نادان انسان اپنی دُعاؤں پر قیاس کر کے کہتا ہے کہ میں نے بھی خدا سے دُعا مانگی تھی مگر وہ خدا نے قبول نہ کی۔شائد اسی قسم کی کوئی دُعا اللہ تعالیٰ کے نبی نے بھی مانگی ہے جس کی قبولیت ضروری نہیں اور وہ یہ کی نہیں جانتا کہ انبیاء میں اور عام لوگوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حکومت برطانیہ کی کامیابی کے لئے دُعا مانگنا بھی اسی بات کی علامت ہے۔موجودہ جنگ کے متعلق اس وقت تک جو خبریں آ رہی ہیں ان کو سُن کر بعض ناواقف لوگ سمجھتے ہیں کہ کوئی زیادہ اہم بات نہیں حالانکہ ہوشیار آدمی الفاظ کے پیچھے سے خود بخود نتیجہ نکال لیتا ہے۔اس وقت جولڑائی ہو رہی ہے اس کے پیچھے کئی حکومتیں ایسی ہیں جنہیں پتہ ہے کہ وہ کس طرف جائیں گی مگر ابھی وہ اس امر کا اظہار نہیں کرتیں۔وہ کوشش کر رہی ہیں کہ ابھی ان کے ارادے ظاہر نہ ہوں لیکن جس وقت ان کے دلی خیالات کو چھپانے کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں گی اس وقت وہ ظاہر ہو جائیں گی اور اس سے بھی زیادہ خطرناک حالات پیدا ہو جائیں گے جتنے اس وقت پیدا ہیں اور جو تو میں اس وقت جنگ سے علیحدہ ہیں اور اپنے آپ کو غیر جانبدار کہہ رہی ہیں وہ بھی آہستہ آہستہ اس پیٹ میں آجائیں گی جیسے بگولہ جب اُٹھتا ہے تو وہ اردگرد کے روڑے، پتھر اور تنکے بھی کھینچ کھینچ کر اپنے اندر شامل کر لیتا ہے۔اسی طرح جب یہ جنگ کی ہیبت ناک صورت میں شروع ہوئی تو بگولے کی طرح اس میں چیزیں پڑنی شروع ہو جائیں گی اور کوئی تعجب نہیں کہ ہندوستان کے ملک میں بھی اس لڑائی کا اثر آ جائے۔اللہ تعالیٰ کی یہ بھی کی ایک سنت ہے کہ وہ بعض دفعہ ایک رؤیا دکھلاتا اور پھر اُسے بھلا دیتا ہے مگر سالہا سال کے بعد جب ان کا ظہور شروع ہوتا ہے تو پھر وہ انہیں یاد دلا دیتا ہے اور اس طرح انسان یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ کس طرح سالہا سال پہلے خدا تعالیٰ ان واقعات کی خبر دے چکا تھا۔