خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 320

خطبات محمود ۳۲۰ سال ۱۹۳۹ء جو خلافت کے محافظ سمجھے جاتے تھے اس کو توڑ دیا۔تو عقائد کے میدان میں ہمیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامل فتح حاصل ہو چکی ہے مگر عملی میدان میں احمدیوں کا وہ رُعب نہیں ہے اور میں نے اس پر متواتر خطبات پڑھے ہیں کہ دوست غور کریں کہ بات کیا ہے؟ پھر جلسہ سالانہ کی تقریروں میں بھی میں نے اس طرف توجہ دلائی تھی اور بتایا تھا کہ جب تک ہم عملی قر بانیوں کے ذریعہ شریعت اسلامیہ کو قائم نہیں کرتے اُس وقت تک عملی میدان میں ہمارا رعب قائم نہیں ہوسکتا۔زبانی طور پر ہم اسلام کی کتنی خوبیاں بیان کیوں نہ کریں اگر ہم لڑکیوں کو ورثہ میں حصہ نہ دیں تو لوگوں پر کیا اثر ہوسکتا ہے؟ وہ یہی سمجھیں گے کہ یہ ان لوگوں کی زبانی با تیں ہیں۔اسی طرح ہم کثرت ازدواج پر خواہ کتنی تقریریں کریں، قرآن و حدیث سے اسے ثابت کریں مگر جب لوگ دیکھیں کہ احمدی جب دوسری شادی کرتے ہیں تو دونوں بیویوں سے انصاف نہیں کرتے۔ایک سے اچھا سلوک کرتے ہیں اور دوسری کو کالمعلقہ چھوڑ دیتے ہیں تو یہ لازمی بات ہے کہ وہ کہیں گے کہ جب اس پر یہ خود عمل نہیں کرتے تو دوسروں کو کیوں اس کی تلقین کرتے ہیں۔حقیقت یہی ہی ہے کہ عملی پہلو کی اہمیت کو جماعت نے ابھی سمجھا نہیں۔اگر اسے سمجھتی تو جماعت یقیناً کئی گنا زیادہ ترقی کر جاتی کیونکہ جب عملی خوبیاں اسلام کی لوگوں کو نظر آتیں تو یقینا اس کی طرف ان کی رغبت بڑھ جاتی لیکن اب تو یہ حالت ہے کہ جماعت میں کسی اسلامی تحریک کا جاری کرنا آسان نہیں اور تفرقہ پیدا ہو جاتا ہے۔حتی کہ بعض لوگ تو اس قدر ڈر جاتے ہیں کہ وہ مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ اسے جاری نہ کریں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ اب تک جماعت میں کئی لوگ ایسے ہیں جن کی نظر ظاہری شان و شوکت سے پُر ہے۔ان کے نزدیک یہ زیادہ بہتر ہے کہ جماعت میں ایک سو دس لوگ شامل ہوں۔خواہ ان میں سے زیادہ کمزور ہی ہوں۔بجائے اس کے کہ پچاس مخلص ہوں اس لئے وہ ہمیشہ ایسی باتوں سے گریز کرتے ہیں جن سے ان کے خیال میں جماعت میں بعض لوگوں کے کم ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے اور وہ اتنا نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں پچاس مخلص زیادہ قیمتی ہیں ان ایک سو دس کی نسبت جن میں سے ساٹھ غیر مخلص ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی بہت اچھی مثال دی ہے۔بعض لوگوں نے یہ بات آپ کے سامنے پیش کی کہ آپ اپنی جماعت کو دوسروں سے کیوں ملنے کی اجازت نہیں دیتے۔نمازیں