خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 319

خطبات محمود ۳۱۹ سال ۱۹۳۹ء وہ گھر میں تو آتے ہیں مگر اس دھوبی کی طرح جو روٹھ کر گھر سے گھاٹ پر چلا گیا اور کہہ گیا کہ میں واپس نہیں آؤں گا۔شام تک تو وہ انتظار کرتا رہا کہ شائد کوئی منانے آئے گا مگر رشتہ دار بھی اس کے روز روز کے رُوٹھنے سے تنگ آچکے تھے۔انہوں نے بھی کہا کہ اب اسے نہیں منائیں گے۔شام کو جب سے بھوک لگی اور یہ بھی پریشانی لاحق ہوئی کہ رات کہاں بسر کروں گا ؟ تو اس نے بیل کو چھوڑ دیا اور خود اس کی دُم پکڑ لی۔دھوبی کا بیل گھاٹ سے گھر ہی جانے کا کی عادی ہوتا ہے وہ گھر کو چل پڑا اور یہ پیچھے پیچھے اس کی دُم پکڑے ہوئے چلتا گیا اور ساتھ ساتھ یہ کہتا رہا کہ یار چھوڑ بھی دے میں گھر نہیں جانا چاہتا۔زبردستی کیوں لے جا رہا ہے؟ یہی حال ان علماء کا ہے یہ ادھر تو کفر کے فتوے لگا چکے ہوئے ہیں اس لئے اب یہ تو نہیں کہتے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں مگر اس طرح کہتے ہیں کہ اچھا مان لیا وہ فوت ہو گئے یہ کونسی بڑی بات ہے اور یہ نہیں سوچتے کہ اگر یہ کوئی بات نہ تھی تو کفر کے فتوے لگانے کی کیا ضرورت تھی۔اسی طرح عصمت انبیاء کا مسئلہ ہے۔اب تم مولویوں سے یہ نہیں سنو گے کہ وہ انبیاء کے گناہوں کی تفصیل بیان کرتے ہوں۔یہ شہری علماء کا ذکر ہے کوئی اجڈ مولوی ایسی باتیں کرتا ہو تو یہ علیحدہ بات ہے۔اسی طرح اور بہت سے مسائل ہیں مثلاً نسخ قرآن کا مسئلہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان تمام آیات سے استدلال فرمایا ہے جن کو علماء منسوخ کھدہ کی قرار دیتے تھے۔آپ نے اس طرح تو بحث نہیں کی کہ قرآن کریم کا کوئی حصہ نسخ محمدہ ہے یا نہیں مگر آپ نے منسوخ قرار دی جانے والی آیات کی نہایت اعلیٰ درجہ کی تفاسیر بیان فرما کر بتاتی دیا ہے کہ یہ منسوخ نہیں ہیں۔بلکہ آپ نے بعض دعاوی کی بنیاد انہی آیات پر رکھی ہے جن کو منسوخ قرار دیا جاتا تھا اور اب یہ حالت ہے کہ تعلیم یافتہ مسلمان اور مصنفین قرآن میں نسخ کا ذکر بھی نہیں کرتے۔اسی طرح اور بہت سے مسائل ہیں جن میں مسلمان دوسروں کے مقابلہ میں پیچھے ہٹ رہے تھے اور میدان سے بھاگ رہے تھے مگر اب ان کے پابند ہو گئے ہیں۔بعض بڑے عقائد میں سے جن پر مسلمانوں کے عملی اتحاد کی بنیاد سمجھی جاتی تھی خلافت کا مسئلہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ انسانوں کا بنایا ہوا خلیفہ بھی کیا ہے۔آخر خود ترکوں نے