خطبات محمود (جلد 20) — Page 310
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء میرے بچے جو جوان ہو گئے ہیں میں ہمیشہ انہیں کہا کرتا ہوں کہ قرآن کریم کے علاوہ ستیارتھ پر کاشی اور انجیل وغیرہ بھی پڑھا کرو۔کیونکہ ان کتابوں کے بغیر تمہیں اسلام کی خوبیوں کا پتہ نہیں لگ سکتا۔تو غیروں کا لٹریچر پڑھنا عیب کی بات نہیں بلکہ میں ان لوگوں کو بہت بیوقوف سمجھتا ہوں جو ایسی کتابیں چھپ چھپ کر پڑھتے ہیں کیونکہ جو شخص کسی دوسرے کو تحقیق سے روکتا ہے وہ اپنے جھوٹے ہونے کا آپ اقرار کرتا ہے۔ہاں ہمارا یہ حق ہے کہ اگر کسی نے کوئی تحقیق کر لی ہے اور کی وہ تحقیق ہماری تحقیق اور ہمارے مذہب کے خلاف ہے تو ہم اس سے یہ مطالبہ کریں کہ اب تم ہمارے اندر شامل نہ رہو بلکہ تم الگ ہو کر اعلان کر دو کہ مجھ پر فلاں مذہب یا فلاں عقیدہ کی صداقت کھل گئی ہے اور اب میں بجائے پہلے عقیدہ کے فلاں عقیدہ اختیار کرتا ہوں۔اگر کوئی اس طرح کر دے تو بات ختم ہو جاتی ہے اور کوئی جھگڑا باقی نہیں رہتا مگر جب کوئی ہمارے اندر شامل رہ کر ہم میں فتنہ پیدا کرتا اور بظاہر تو وہ ہمارے ساتھ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے مگر اندرونی کی طور پر وہ کسی اور مذہب اور کسی اور عقیدے کا قائل ہوتا ہے تو چونکہ اس قسم کی باتیں نظام کو تہ و بالات کر دیا کرتی ہیں اس لئے ہمارے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ہم اس کا مقابلہ کریں اور اس کی اصل شکل میں اسے بے نقاب کر دیں۔بہر حال ہماری جماعت چونکہ خلافت کے نظام میں منسلک ہے اس لئے جب بھی کوئی فتنہ اُٹھا تو گو بظاہر اس کی شکل نہایت ہیبت ناک تھی مگر تھوڑے ہی کی عرصہ کے بعد اس کا نام و نشان مٹ گیا اور یہ سب اس نظام کی برکت ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں قائم ہے مگر پھر بھی عملی طور پر ہماری جماعت میں ابھی کئی قسم کی کمزوریاں نی پائی جاتی ہیں۔کئی کمزور لوگ ہیں جو قر بانیوں میں پورے طور پر حصہ نہیں لے رہے، کئی اُن مشکلات کو برداشت نہیں کر سکتے جو خدا تعالیٰ کے راستہ میں پیش آتی ہیں اور کئی عدم استقلال کی کچ وجہ سے چند دن نیکی کے کاموں کی طرف توجہ کرتے اور پھر ان کو بھلا کر بیٹھ رہتے ہیں اور یہی وہ کی باتیں ہیں جن کی ہماری جماعت کو فکر کرنی چاہئے۔میں دیکھتا ہوں بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں مگر ہماری جماعت کے بعض دوستوں کا قدم انہی باتوں میں آ کر پھسل جاتا ہے اور وہ استقلال کا مظاہرہ نہیں کر سکتے۔نیشنل لیگ کا ہی قادیان میں پہلے چھ سو ممبر ہوا کرتا تھا مگر اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس کے ممبر صرف ۴۶ ہیں۔اب گجا چھ سو اور گجا چھیالیس۔کیا ان دونوں میں