خطبات محمود (جلد 20) — Page 306
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء دے سکتے ہیں۔مجھے ضرورت نہیں کہ میں اس کا جواب دوں۔باقی اس پیشگوئی کے متعلق میرا نظریہ یہ ہے کہ یہ پیشگوئی کسی مامور کے متعلق نہیں بلکہ غیر مامور کے متعلق ہے اور جب یہ پیشگوئی مامور کے متعلق نہیں تو ایک غیر مامور کو بولنے اور دعویٰ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ دعویٰ ہمیشہ وہاں کیا جاتا ہے جہاں پیشگوئی مامور کے متعلق ہو مگر جب غیر مامور کے متعلق ہو تو اس کے متعلق دعوی کرنا ضروری نہیں ہوتا۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریل کے متعلق پیشگوئی کی۔اب کیا یہ ضروری ہے کہ ریل خود بول کر کہے کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشگوئی کی مصداق ہوں؟ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس بارے میں ریل کا بولنا ضروری نہیں بلکہ ریل اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشگوئی میں آگئی تو اس پیشگوئی کی صداقت کے لئے ریل کا وجود ہی کافی دلیل ہے۔کسی دعوے کی اس میں ضرورت نہیں۔اسی طرح اور کئی ایسی کی پیشگوئیاں ہوتی ہیں جو باوجود اس کے کہ واقعی طور پر بعض لوگوں پر چسپاں ہوتی ہیں مگر اس کی بارے میں ان کو دعوی کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔بیشک کئی پیشگوئیاں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ جن میں دعویٰ کرنا ضروری ہوتا ہے مگر وہ پیشگوئیاں بھی ہوتی ہیں جن کے لئے کسی دعوئی کی ضرورت نہیں ہوتی اور میرے نزدیک مصلح موعود کی پیشگوئی چونکہ مامور کے متعلق نہیں بلکہ غیر مامور کے متعلق ہے۔اس لئے وہ ان پیشگوئیوں میں داخل ہی نہیں جن میں کسی دعوی کی ضرورت ہو۔میرا یہ مطلب نہیں کہ یہ پیشگوئی مجھ پر چسپاں نہیں ہوتی بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب کوئی پیشگوئی کسی مامور کے متعلق نہ ہو تو اس میں دعویٰ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ہر شخص علامات کو کی دیکھ کر خود بخود اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہ پیشگوئی دوسرے پر چسپاں ہوتی ہے یا نہیں۔مثلاً اگر مجھ پر تمام علامات چسپاں ہو رہی ہوں اور جس قدر نشانات مصلح موعود کے بتائے گئے ہیں وہ سب مجھ پر پورے ہو رہے ہوں تو مصری خواہ لاکھوں کروڑوں ہو جائیں اور یہ کہہ کر سر پیٹتے رہیں کہ مصلح موعود کی پیشگوئی مجھ پر چسپاں نہیں ہوتی تو ان کا کچھ نہیں بنے گا۔ہر شخص جو واقعات کو دیکھے گا وہ خود بخود یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوگا کہ جب تمام علامات ایک شخص کے وجود میں پوری ہو گئیں تو وہ کیوں مصلح موعود نہیں؟ اور اگر مصلح موعود کی جو علامات بیان کی گئی ہیں وہ مجھ میں کی