خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 307

خطبات محمود ۳۰۷ سال ۱۹۳۹ء نظر نہ آئیں تو خواہ جماعت مجھے مصلح موعود قرار دے دے میں مصلح موعود نہیں بن سکتا۔لوگ کہیں گے جب علامات پوری نہیں ہوئیں تو مصلح موعود کس طرح ہو گئے۔مثلا مصلح موعود کے متعلق اللہ تعالیٰ نے جو علامات بتا ئیں ہیں اُن میں سے بعض یہ ہیں کہ وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا ، زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا“ اور ” قو میں اُس سے برکت پائیں گی۔“ اب اگر یہ علامات میرے متعلق نہیں تو کسی کو کچھ لکھنے کی کیا ضرورت ہے۔جب قو میں مجھ سے برکت نہیں پائیں گی ، جب میں اسیروں کی رستگاری کا موجب نہیں ہوں گا اور جب میں زمین کے کناروں تک شہرت نہیں پاؤں گا تو لوگ خود بخود فیصلہ کر لیں کے کہ میں مصلح موعود نہیں۔آخر برکت دینے والا خدا ہے نہ کہ میں یا مصری صاحب۔پس جبکہ خدا میرے ذریعہ دُنیا کی اقوام کو برکت نہیں دے گا تو لوگوں کے لئے فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا اور وہ سمجھ جائیں گے کہ میرے متعلق یہ کہنا کہ میں مصلح موعود ہوں درست نہیں لیکن اگر قوموں نے مجھ سے برکت پالی، اگر زمین کے کناروں تک میں شہرت پا گیا اور اگر میں اسیروں کی رستگاری کا موجب بن گیا تو اس کے بعد بھی اگر کوئی میرے متعلق اس پیشگوئی کی صداقت سے انکار کرے گا تو اس کی مثال ایسی ہی ہوگی جیسے کہتے ہیں کہ کوئی بزدل شخص کسی لڑائی میں شامل ہو گیا۔اتفاقاً ایک تیر اُس کی پنڈلی میں آلگا اور خون بہنے لگ گیا۔وہ یہ دیکھتے ہی میدانِ جنگ سے بھاگا اور بھاگتے ہوئے ایک طرف تو اپنے زخم کا خون پونچھتا جاتا تھا اور دوسری طرف کہتا جا تا تھا کہ یا اللہ یہ خواب ہی ہو، یا اللہ یہ خواب ہی ہو۔کیسی حماقت ہے ایک واقعہ موجود ہے، تیر لگا ہوا ہے، درد ہو رہا ہے، خون بہہ رہا ہے اور زبان سے کہتا جا رہا ہے کہ یا اللہ یہ خواب ہی ہو۔اسی طرح اگر خدا نے میرے ذریعہ دُنیا کی مختلف اقوام کو برکت دے دی ، اگر خدا نے مجھے اسیروں کی کی رستگاری کا موجب بنا دیا اور اگر خدا نے مجھے اسلام اور احمدیت کی شوکت اور اس کی عظمت قائم کرنے کا ایک ذریعہ بنا دیا تو کوئی لاکھ شور مچاتا رہے کہ یہ صلح موعود نہیں دُنیا اس کی بات کی پر قطعاً کان نہیں دھرے گی اور اگر مجھ میں یہ علامات نہ پائی گئیں تو خواہ میری بیعت میں داخل شد ہ لوگ سب کے سب مجھے مصلح موعود قرار دے دیں میں مصلح موعود نہیں ہوں گا۔کیونکہ لوگ کہیں گے کہ تم یہ بتاؤ ہم واقعات کو کہاں چھپا ئیں۔اگر علامات پوری نہیں ہوئیں تو ہم کسی کو