خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 302

خطبات محمود ٣٠٢ سال ۱۹۳۹ء انہیں بتایا کہ قومی ترقی انہی اصول پر ہو سکتی ہے۔پیغامی ہمیشہ میری اس تقریر اور اسی قسم کی اور تقریروں پر اعتراض کرتے رہتے ہیں اور کہا کرتے ہیں دیکھو یہ شخص خود درائی کی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے حالانکہ اسلام نے جو طریق بتایا ہے وہ اس ڈکٹیٹر شپ سے ہزاروں درجے بڑھ کر ہے جو یورپین ممالک میں قائم ہے۔بے شک ان دونوں میں ایک مشابہت بھی ہے اور وہ یہ کہ جس طرح لوگ ڈکٹیٹروں کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ خلفاء کی کی اطاعت اور فرمانبرداری کی تلقین کرتا ہے مگر اس کے مقابلہ میں ایک بہت بڑا فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ ڈکٹیٹر خود قانون ساز ہوتا ہے مگر خلیفہ قانون ساز نہیں بلکہ ایک اور قانون کے تابع ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔ہٹلر قانون ساز ہے۔مسولینی قانون ساز کی ہے، لینن قانون ساز ہے لیکن اسلامی خلیفہ نظام اور قانون کا اسی طرح پابند ہے جس طرح کی جماعت کا ایک عام فرد۔وہ قانون ساز نہیں بلکہ خدائی قانون کا تابع ہوتا ہے اور اسی قانون کو کی وہ لوگوں سے منواتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خلافت کی وجہ سے لوگوں پر وہ ظلم نہیں ہوتا جوان مملکوں میں ہو رہا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ یہاں ایک مکمل قانون قرآن کریم کی شکل میں موجود ہے جس پر عمل کرنا اور دوسروں سے عمل کرانا خلفاء کا کام ہے لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت میں ابھی تک احکام خلافت کی پابندی کی وہ رُوح پیدا نہیں ہوئی کی جو اسلام لوگوں کے دلوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے اور نہ اس نظام کی قدرو قیمت کو اس نے پوری کی طرح محسوس کیا ہے۔مجھے حیرت ہوئی جب میں نے اپنی جماعت کے ایک اخبار میں غیر مبائعین کے ایک انگریزی اخبار کا ایک نوٹ پڑھا جس میں وہ ہٹلر کی کتاب ” میری جدو جہد کے بعض اقتباسات درج کرنے کے بعد لکھتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی توجہ اس نئے سوشل فلسفہ کی طرف مبذول کرنی چاہئے کیونکہ بظاہر یہ اُن خیالات کے خلاف معلوم ہوتا ہے جو اسلامی جمہوریت کے متعلق قبول کئے جاچکے ہیں لیکن اس تجربہ کے بعد جو جرمنی نے کیا اور اُس تجربہ کے بعد جو پ کے بعض اور ممالک میں کیا گیا یہ امر اس قابل ہو جاتا ہے کہ ہم دوبارہ تمام سوال پر غور کریں اور دیکھیں کہ اسلامی نقطہ نگاہ کیا ہے۔گویا غیر مبائعین کے دلوں میں بھی اب یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ آج سے پچیس سال کی