خطبات محمود (جلد 20) — Page 301
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء حقیقی طاقت اس میں مفقود تھی۔نہ اس میں تعلیم تھی ، نہ اس میں نظام تھا، نہ اس کے پاس روپیہ تھا اور نہ کوئی تجارت اس کے پاس تھی مگر اب یہ ملک اتنا ترقی کر گیا ہے کہ کئی تجارتی منڈیاں اٹلی والوں کے قبضہ میں ہیں اور تجارت کے کئی میدانوں میں وہ انگریزوں کو شکست دے چکے ہیں۔ان کے سمندری جہاز انگریزی جہازوں سے بدرجہا بہتر ہوتے ہیں۔ان میں کھانا زیادہ اچھا ملتا ہے اور ان میں آرام و آسائش کا بھی زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔حتی کہ کئی انگریز افسر جب سرکاری کرائے پر ادھر اُدھر جاتے ہیں تو اٹلی کے جہازوں میں جاتے ہیں۔پارلیمنٹ میں اس کی کے متعلق کئی دفعہ سوال بھی ہوئے اور دریافت کیا گیا کہ ایسے افسروں کو روکا کیوں نہیں جاتا مگر حکومت کی طرف سے یہی کہا جاتا ہے کہ ہمارا کام صرف کرایہ دینا ہے۔ہم یہ پابندی عائد نہیں کر سکتے کہ وہ فلاں جہازوں میں سوار ہو ا کریں اور فلاں میں نہ ہو ا کریں اس کی وجہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہی ہے کہ ان جہازوں میں مسافروں کو آرام زیادہ ملتا ہے۔اس کے بعد جرمن میں تغیر پیدا ہوا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جرمنی کے حالات مختلف تھے۔روسی اور ترکی اور اطالوی کی مُردہ تو میں تھیں جو زندہ ہو ئیں مگر جرمن مُردہ نہیں تھا۔جرمن زندہ تھا اس میں علم بھی تھا اس میں سائنس بھی تھی اور وہ قریب زمانہ میں دُنیا کی بڑی سے بڑی طاقتوں میں شامل رہ چکا تھا۔صرف عارضی طور پر وہ دبا دیا گیا تھا۔پس ہٹلر کا کام اتنا شاندار نہیں جتنا لیفن یا مسولینی یا مصطفیٰ کمال پاشا کی کالیکن بہر حال اس نے اپنے ملک کو غلامی سے نکالا اور اسے عزت ورفعت کے مینار پر کھڑا کر دیا۔مگر جس نظام کے متعلق آج دنیا کہتی ہے کہ یہ نیا نظام ہے تم سوچو اور غور کرو کہ کیا یہ نیا نظام ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ نیا نظام نہیں بلکہ یہ وہی نظام ہے جسے اسلام نے آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے خلافت کی شکل میں دُنیا میں قائم کیا تم میں سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ آج یورپ میں چونکہ یہ ایک نظام قائم ہو چکا ہے اور اس کے فوائد بھی ظاہر ہو چکے ہیں اس لئے اس کی کو دیکھ کر آپ نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے مگر میں بتاتا ہوں کہ یہ صحیح نہیں۔تم ۱۹۱۴ ء کا میرا وہ لیکچر نکال کر دیکھ لو جو برکات خلافت کے نام سے چھپا ہو ا موجود ہے۔اُس میں میں نے وہی نظام پیش کیا ہے جس کی آج یورپین حکومتیں تقلید کر رہی ہیں۔۱۹۱۴ء میں تو نہ لیفن تھا ، نه مسولینی ، نہ مصطفی کمال پاشا تھا اور نہ ہٹلر۔اس وقت میں نے یہ نظام لوگوں کے سامنے رکھا اور