خطبات محمود (جلد 20) — Page 265
خطبات محمود ۲۶۵ سال ۱۹۳۹ء وہ مَغْضُوبِ ان خرابیوں کی وجہ سے قرار پائے جو بعد میں ان میں پیدا ہوئیں اور ان خرابیوں میں سے سب سے بڑی جو قرآن کریم نے بیان فرمائی وہ یہ ہے کہ انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کا انکار کیا اور ضآل کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اُنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا بنا دیا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح کے مطابق یہ گروہ کون بنتے ہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دو کام تو بہت نمایاں ہیں ایک یہ کہ آپ نے دعوی کیا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور دوسرا یہ کہ حضرت مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں اور ان کی طرف جو ایسے معجزے منسوب کئے جاتے ہیں جو الوہیت کی شان رکھتے ہیں وہ غلط ہیں اور یہ دونوں کام آپ کو زمرہ مغضُوبِ وصال سے باہر ثابت کرتے ہیں۔کیونکہ مَغْضُوبِ تو وہ ہیں جنہوں کی نے حضرت مسیح کا انکار کیا اور آپ نے تو خود مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور سب سے پہلے اس کی دعوئی پر ایمان لائے اور ضآل وہ ہیں جو حضرت عیسی کی طرف خُدائی صفات منسوب کرتے ہیں اور آپ نے حضرت عیسی کی خدائی کی گویا ٹانگ تو ڑ دی ہے۔کیپٹن ڈگلس ( جواب کر نیل ہیں ) جب اس ضلع کے ڈپٹی کمشنر ہو کر آئے تو چونکہ وہ متعصب عیسائی تھے انہوں نے یہاں آتے ہی کہا کہ یہ شخص ہمارے خدا کو مارتا ہے اسے کوئی کچھ نہیں کہتا۔گو بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو کی ہدایت دی اور اُنہوں نے حضرت مسیح موعود کے ایک مقدمہ میں جو ایک پادری کی طرف سے تھا اعلیٰ انصاف سے کام لیا اور اب تک اس نشان کا خود ذکر دوسروں سے کرتے رہتے ہیں۔تو آپ نے الوہیت مسیح پر ایسی کاری ضرب لگائی ہے کہ خود عیسائی بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں۔اسی سال کا ایک لطیفہ ہے کہ ہماری لاہور کی جماعت نے انگریزی میں ایک ٹریکٹ شائع کیا جس میں حضرت مسیح کی قبر کا فوٹو اور حالات درج تھے۔وہ ٹریکٹ ایک دوست انگریزوں میں تقسیم کر رہے تھے کہ ایک دس بارہ سال کی لڑکی آواز سُن کر ٹریکٹ لینے کے لئے اپنے گھر سے باہر آ گئی اور ٹریکٹ لے کر جب اُسے دیکھا تو زور سے چھلانگ لگائی اور زور سے چلا کر کہا۔ابا اماں ہمارا خدا مر گیا یہ اس کی قبر ہے تو جس شخص نے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت کر کے الوہیت مسیح کے عقیدہ کو باطل ثابت کر دیا ہے وہ ضال کس طرح ہو سکتا ہے؟ اور جو کی۔