خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 266

خطبات محمود ۲۶۶ سال ۱۹۳۹ء خود مدعی مسیحیت ہو وہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں سے کس طرح ہو سکتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ دونوں کا رنا مے آپ کو قطعی طور پر مغضوب اور آل کے زمرہ سے باہر نکالتے ہیں۔اب تیسری بات آنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی رہ گئی سو اس بارہ میں یاد رکھنا چاہئے کہ آپ نے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ سے یہ الہام پایا کہ دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی کو دُنیا پر ظاہر کر دے گا۔‘ے ایک اکیلا شخص جو بالکل گمنام تھا یہ دعویٰ کرتا ہے اور آج اس کے نام کی برکت سے اس گاؤں کو جس کے متعلق خود حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ یہ ایک کورد یہ تھا۔اتنی ترقی ہوئی ہے کہ آج یہاں جمعہ کی نماز میں اتنے لوگ ہیں کہ بہت کم شہروں میں ہوتے ہوں گے۔ہندوستان میں ایک لاکھ سے زیادہ آبادی رکھنے والے شہر پچاس سے زیادہ ہیں اور ہزاروں کی آبادی والے تو سینکڑوں ہیں مگر ان شہروں میں سے سوائے تین چار ایسے شہروں کے جن کی کی آبادی دو تین لاکھ سے زیادہ ہے کسی جگہ بھی اتنے آدمی جمعہ کے لئے ایک مسجد میں جمع نہیں ہوتے جتنے قادیان میں ہوتے ہیں اور پھر یہ سب کے سب باہر سے آئے ہوئے ہیں۔إِلَّا مَا شَاءَ الله - کوئی صوبہ سندھ کا ہے، کوئی بمبئی کا اور کوئی سرحد کا۔پھر پنجاب کے مختلف حصوں کے لوگ ہیں ، عرب ، سماٹری جاوی اور افریقی ہر قوم کے آدمی موجود ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کو پورا کر رہے ہیں کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ ” میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ حَانَ أَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفَ بَيْنَ النَّاسِ ۵ یعنی اب وقت آ گیا ہے کہ خدا تیری مدد کرے اور تجھے لوگوں میں معروف کرے اور آج اس گاؤں کو اتنی اہمیت حاصل ہے کہ احراری سارے پنجاب کو چھوڑ کر یہاں جلسہ کے لئے آتے ہیں اور جیسا کہ اخبار الفضل میں ان کے ایک مولوی کی کی تقریر چھپی تھی اُس نے کہا کہ اگر مکہ پر بھی حملہ ہو تو بھی میں قادیان میں رہنا زیادہ ضروری سمجھوں گا۔گویا ایک اکیلا شخص جس نے دعوی کیا تھا آج اتنا طاقتور ہو چکا ہے کہ بعض مولوی کہلانے والے مکہ کو خطرہ میں چھوڑ دینا آسان سمجھتے ہیں مگر بقول ان کے قادیان کے فتنہ کے مد نظر وہ اس حالت میں بھی قادیان کو چھوڑ نا پسند نہیں کرتے۔یہ دشمن کی گھبراہٹ ہی