خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 247

خطبات محمود ۲۴۷ سال ۱۹۳۹ء بہادری ہے۔پھر ہندوستانی یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہمارا ملک اتنا وسیع ہے یہاں سب چیزیں بکثرت پیدا ہوتی ہیں۔غلہ اور کپاس وغیرہ خام اشیاء انگریز یہیں سے لے جاتے ہیں اور پھر ان سے مختلف چیزیں تیار کر کے ہمیں کو ٹوٹتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ان کو اس طرح لوٹنے کی کی طاقت کیسے حاصل ہوئی ؟ یہ تو ہو ا نہیں کہ فرشتوں نے آ کر ہندوستانیوں کے ہاتھ پیر باندھ کر انہیں انگریزوں کے آگے پھینک دیا ہو یا اگر فرشتوں سے ایسی بات منسوب نہ کی جا سکے تو کی شیطانوں نے ہندوستان فتح کر کے انگریزوں کے حوالے کر دیا ہو۔ہندوستان نہ فرشتوں نے حوالے کیا اور نہ شیطانوں نے بلکہ انگریزوں نے خود اسے حاصل کیا اور ہم یہ مان لیتے ہیں کہ انہوں نے لڑائی سے اسے فتح نہیں کیا مگر عقل سے تو کیا ہے۔انہوں نے عقل سے ہی اپنی فوقیت اور برتری ثابت کر دی اور اس صورت میں یہ ماننا پڑے گا کہ گو ہمارے ہاتھ سے ان کا ہاتھ اچھا نہیں مگر ہمارے دماغ سے ان کا دماغ ضرور اچھا ہے۔یہ بھی ایک زبر دست فضیلت ہے۔ہندوستانی کہتے ہیں کہ انگریز چالاکی سے جیت جاتے ہیں مگر چالا کی کیا ہے؟ ذہن کی تیزی کا نام چالا کی ہے اور ہاتھ کی تیزی زیادہ اچھی ہے یا ذہن کی ؟ ایک شخص اچھا گورنر ہے ملک کو قابو رکھ سکتا ہے ، مقدمات کا اچھا فیصلہ کر سکتا ہے اور ایک شخص اچھا دبا سکتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ دونوں میں سے کس کی قیمت زیادہ ہوگی ؟ اچھے گورنر ، اچھے فلاسفر ، اچھے جج کی یا اچھے دبانے والے کی ؟ اگر تو دبانے والا زیادہ قیمتی وجود ہے تو بے شک ہم کہہ سکتے ہیں کہ انگریز اچھی تلوار نہیں چلا سکتے اس لئے ہم ان سے افضل ہیں لیکن اگر دماغی قابلیت کی قیمت زیادہ ہے تو جب ہم کہتے ہیں کہ انگریز کا ہاتھ ہمارے ہاتھ سے اچھا نہیں اور پھر یہ حقیقت ہے کہ وہ ہمارے حاکم ہیں تو اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ ہم ان کی ایسی فضیلت کا اعتراف کرتے ہیں جو وہ خود بھی بیان نہیں کرتے مگر تم یہ کہہ کر کہ انگریز بزدل ہیں بہت خوش ہوتے ہو کہ انگریزوں پر حملہ کر دیا۔حالانکہ جب تم یہ کہتے ہو کہ فلاں قوم لڑائی میں اچھی ہے مگر ذہین نہیں تو یہ بہت کم تعریف ہے لیکن کی جب یہ کہتے ہو کہ لڑائی میں اچھی نہیں مگر ذہین بہت ہے تو اس کی بہت زیادہ تعریف کرتے ہو۔اگر کوئی کہے کہ فلاں شخص کے ساتھ پچاس ساٹھ آدمی تھے وہ ان کو لے کر میرے مکان پر آیا مجھے باندھ دیا اور مال اسباب لے کر چلا گیا تو اس میں گھر والے کی کوئی ذلت نہیں اور جس نے لوٹا