خطبات محمود (جلد 20) — Page 238
خطبات محمود ۲۳۸ سال ۱۹۳۹ء خدا اور اُس کے رسول نے اس کی ادائیگی کے لئے مقرر کئے ہوئے ہیں۔اگر کوئی شخص ان شرائط کو پوری طرح ملحوظ نہیں رکھتا تو وہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کھانا لینے کے لئے گندا برتن لے جائے اور اگر وہ کسی امر کی بھی نگہداشت نہیں رکھتا جیسے بعض لوگ نہ ذکر الہی کرتے ہیں نہ سنتیں پڑھتے ہیں اور نماز کے لئے انتظار کرنے کو تضیع اوقات سمجھتے ہیں۔ان کی مثال بالکل اس شخص کی سی ہے جو کھانا لینے کے لئے تو جائے مگر برتن اس کے پاس نہ ہو دونوں صورتوں میں دعوت کا فائدہ نہیں اُٹھایا جاسکتا کیونکہ جو نماز بھی ان قیود کے بغیر پڑھی جائے گی وہ گندے برتن میں چیز ڈلوانے کے مترادف ہوگی اور اس قسم کی نماز پڑھنے والے کو نماز کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔نماز کے وقت محبت الہی کی غذا تقسیم ہو رہی ہوتی ہے اور اس کو وہی شخص حاصل کر سکتا ہے جو نہ صرف برتن لے کر جائے بلکہ پاک اور صاف برتن لے کر اس کے حضور حاضر ہو۔پس میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں خصوصاً اپنے خاندان کے بعض بچوں کو کی ( شاید ان میں سے بعض بچوں کو یہ بُرا لگے اور طبعاً بُر امحسوس بھی ہوتا ہے اسی لئے رسول کریم کی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے فرمایا ہے کہ جب کسی کو کوئی نصیحت کرنی ہو تو علیحدگی میں کرو ہے مگر چونکہ میں ان لوگوں کو الگ بھی سمجھا چکا ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ میرے اِس سمجھانے کا کوئی خاطر خواہ کی اثر اُن پر نہیں ہوا اِس لئے میں نے چاہا کہ اب ان کا نام لے کر اس بات کو بیان کر دوں۔) یہ بات یا درکھو کہ موجودہ تہذیب اور تعلیم ان چیزوں کو حقیر کر کے دکھاتی ہے مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے وہ اپنی چیزوں کو حقیر کر کے نہیں دکھاتی۔چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں مگر ان کے خلاف چلتے ہوئے ان کی جان نکلتی ہے۔جیسے میں نے بتایا ہے کہ ڈنر کے موقع پر ہر شخص کے لئے کالا کوٹ پہن کر جانا ضروری سمجھا جاتا ہے اور وہ اس بات کو بڑی مصیبت اور ہتک سمجھتے ہیں کہ ان کی مجلس میں کوئی ایسا شخص شریک ہو جائے جس نے کالا کوٹ پہنا ہوا نہ ہو۔ایک دعوت مجھے بھی اس وقت یاد آ گئی وہ بھی ڈنر تھا جس میں شمولیت کے لئے مجھے بلایا گیا۔میں نے کہلا بھیجا کہ میں ڈنر کے موقع پر کالا کوٹ نہیں پہن سکتا اب وہ ایک طرف دعوت میں مجھے شریک بھی کرنا چاہتے تھے اور دوسری طرف ان کے لئے یہ بھی بڑی بھاری مصیبت تھی کہ میں ایسی حالت میں شامل ہوں جبکہ میں نے کالا کوٹ پہنا ہوا نہ ہو اور اس طرح ان کی کی