خطبات محمود (جلد 20) — Page 239
خطبات محمود ۲۳۹ سال ۱۹۳۹ء ذلت ورسوائی ہو۔تنگ آ کر انہوں نے یہ فیصلہ کر دیا کہ کوئی شخص کالا کوٹ پہن کر نہ آئے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ بڑی ذلت کی بات ہوگی کہ اور لوگوں کے تو کالے کوٹ ہوں گے اور ان کا کالا کوٹ نہیں ہوگا تو انہوں نے سرے سے یہ قید ہی اُڑا دی محض اس لئے کہ یہ محسوس نہ ہو کہ قانون ٹوٹ گیا ہے اور اُنہوں نے کسی شرط کی خلاف ورزی کی ہے۔پھر یورپین لوگوں نے خود اپنے اوپر کئی قسم کی قیود عائد کر رکھی ہیں چنانچہ امریکہ کے ایک رسالہ میں میں نے ایک دفعہ ایک مضمون پڑھا وہاں مر دعورت ناچتے ہیں اور اس میں کوئی شرم اور حیا محسوس نہیں کی جاتی۔غیر عورت کا غیر مرد کے ساتھ ناچ یورپ میں بالکل جائز ہے مگر اُنہوں نے یہ شرط رکھی ہوئی ہے کہ اس ناچ میں تین اُنگلی کا مرد اور عورت کے درمیان فرق رہنا چاہئے۔اب مرد اور عورت ناچتے چلے جائیں گے اور اُسے بالکل جائز اور درست سمجھیں گے لیکن ساتھ ہی یہ ضروری ہوگا کہ ان میں تین اُنگل کا فرق رہے۔اگر تین انگل سے کم فرق ہو جائے گی تو وہ کہتے ہیں کہ یہ درست نہیں۔اس مضمون میں یورپین لوگوں کے اس طریق عمل پر مضمون نویس نے جو ہمارے نقطہ نگاہ میں تو سمجھدار تھا مگر اپنی قوم کے نزدیک بیوقوف اور احمق تھا بڑی ہنسی کی اُڑائی اور لکھا کہ یہ تین انگل کا کونسا فرق ہے جس میں زور دیا جاتا ہے اور وجہ کیا ہے کہ تین اُنگلی کا فرق ہو تو تہذیب قائم رہتی ہے اور اگر اڑھائی اُنگلی کا فرق ہو جائے تو تہذیب اُڑ جاتی ہے مگر ان میں یہ ایک قاعدہ ہے۔وہ اس کی پابندی کرتے ہیں اور ہر شخص خیال کرتا ہے کہ یہ بڑا اہم معاملہ ہے۔اسی طرح تیرہ کا عدد انگریزوں میں منحوس سمجھا جاتا ہے کیونکہ حضرت مسیح کے بارہ حواری تھے اور تیرھویں آپ خود تھے لیکن پھر انہی میں سے ایک نے حضرت مسیح کو چند روپوں کے بدلے گرفتار کرا دیا۔بس اُس وقت سے تیرہ کا عدد انگریزوں میں منحوس سمجھا جاتا ہے۔ان میں بڑے بڑے فلاسفر، بڑے بڑے پروفیسر ، بڑے بڑے مد بر، بڑے بڑے سائنسدان اور بڑے بڑے عقلمند اور دانا لوگ ہیں مگر جہاں تیرہ کا اجتماع دیکھیں گے ان کے چہرے زرد پڑ جائیں گے اور کوشش کریں گے کہ کسی طرح اس دعوت سے بھاگ جائیں جس میں تیرہ آدمی جمع ہیں اور یا تو وہ تلاش کر کے کسی چودھویں آدمی کو اپنے اندر شامل کر لیں گے اور اگر کسی چودھویں کو شامل نہ کر سکیں تو ایک ان میں سے ضرور کھسک جائے گا تا کہ تیرہ کی نحوست اُن پر نہ آئے۔