خطبات محمود (جلد 20) — Page 207
خطبات محمود ۲۰۷ سال ۱۹۳۹ء سیاسی ضرورتوں کی وجہ سے اچھوت قرار دی گئی تھیں در حقیقت مُلک کی قدیم باشندہ ہیں اور آرین نسلوں کے آنے سے پہلے ہندوستان میں حکومت کرتی رہی ہیں۔چنانچہ جغرافیہ والے ان کو ڈریویڈینز (DRAVADIANS) کہتے ہیں۔یہ لوگ سیاسی کی طور پر کسی زمانہ میں مغلوب ہوئے پھر ذلیل سے ذلیل تر ہوتے چلے گئے۔پہلے حکومت گئی ، پھر تجارت گئی ، پھر صنعت و حرفت گئی ، پھر علم گیا ، پھر عزت گئی گویا وہ ساری چیزیں جو دنیا میں انسان کی عزت اور ترقی کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہیں ان سے یہ محروم ہو گئیں اور سینکڑوں کی نہیں ہزاروں سالوں سے محروم چلی آتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے کہ کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے ، اور میں سمجھتا ہوں اس الہام میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ قو میں جو ادنی کہلاتی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ان کو ادنیٰ حالت سے نکال کر ترقی کی طرف لے جایا جائے گا۔آج سیاسی طور پر دُنیا میں ایسے حالات پیدا ہیں کہ ہندو اور مسلمان دونوں یہ چاہتے ہیں کہ ان قوموں کو وہ اپنے اندر شامل کریں مگر ان کو شامل کرنا محض سیاسی ہے اور ان کی غرض صرف اتنی ہی ہے کہ یہ لوگ آئندہ ہندو یا مسلمان کہلا ئیں اور اپنے ووٹ ان کو دے دیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو قوم جس کے ساتھ شامل ہوگئی اپنے ووٹ بھی اسی کو دے گی مگر میرے نزدیک ان سے صرف اتنی ہی ہمدردی کرنا کہ ان کا نیا نام رکھ دیا جائے اور ان کے ووٹوں سے خود فائدہ اُٹھا لیا جائے نہایت کمینہ اور اخلاق سے گری ہوئی بات ہے۔اگر ہم اِن قوموں کو حقیقی فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ان میں تعلیم پھیلائیں ، ان میں پیشوں کی ترویج کریں، انہیں صنعت و حرفت کے کام سکھائیں۔یہاں تک کہ ان کا معیار زندگی بلند ہو جائے ، ان کا معیار عقل بلند ہو جائے ، ان کا معیار علم بلند ہو جائے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ سانسی ، چوڑھے اور بھیل قوم کے افراد جو ذلیل سمجھے جاتے ہیں یا بعض اور قو میں جو اس ملک میں ادنیٰ اور حقیر سمجھی جاتی ہیں اگر اُن میں تعلیم آ جائے ، اگر اُن میں سے بھی کی بی۔اے اور ایم۔اے بننا شروع ہو جائیں ، اگر وہ بھی مولوی فاضل کی ڈگریاں حاصل کر لیں ، اگر وہ بھی مساجد کے منبر پر کھڑے ہو کر وعظ کریں، اگر اُن کی زبان سے بھی ایسی باتیں نکلیں