خطبات محمود (جلد 20) — Page 206
خطبات محمود ۲۰۶ سال ۱۹۳۹ء قادیان میں کسی احمدی کو ان پڑھ نہ رہنے دیا جائے ( فرموده ۲۸ را پریل ۱۹۳۹ء) تشہد ،تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے گزشتہ ہفتہ میں قادیان کی تعلیم کا کام خدام الاحمدیہ کے سپر د کیا تھا اور میں نے انہیں نصیحت کی تھی کہ وہ اس کام کو اپنے سے باہر جو تجربہ کار لوگ ہیں اُن کی مدد سے شروع کریں اور تین دن کے اندر اندرلسٹ بنا کر میرے سامنے پیش کر دیں۔چنانچہ اس کے مطابق خدام الاحمدیہ نے تین دن کے اندراندرلسٹ بنا کر میرے سامنے پیش کر دی جس کے دوسرے کی دن بُلا کرمیں نے اُن سے بھی اور میر محمد اسحاق صاحب اور مولوی ابو العطاء صاحب سے بھی مشورہ کر کے ایک سکیم تجویز کر دی۔وہ سکیم یہ تجویز ہوئی ہے کہ ہر احمدی مرد جو دس سال سے اوپر ہے اُسے ایک تو قرآن پڑھنا آتا ہو، دوسرے نماز باترجمہ آتی ہو، تیسرے وہ اُردو پڑھ اور لکھ سکتا ہو اور چوتھے سو تک کے ہند سے اُسے آتے ہوں۔غور کرنے کے بعد یہ بھی فیصلہ ہوا کہ تین مہینہ میں یہ کورس ختم نہیں ہوگا اس لئے تین ماہ کی بجائے چھ مہینے تجویز کئے گئے اور ساتھ ہی چار امتحان بھی تجویز کئے گئے ہیں۔چنانچہ پہلا امتحان یکم جون کو ، دوسرا یکم جولائی کو، تیسرا یکم ستمبر کو اور چوتھا یکم نومبر کو ہو گا۔پڑھانے والوں کی تعداد خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر محلہ میں کافی ہے سوائے دائر الصحت کے۔اور دار الصحت ہی ایک ایسا محلہ ہے جو اپنے اندر ایک خصوصیت رکھتا اور ہماری بہت زیادہ توجہ چاہتا ہے۔یہ تو میں جو ہندو تہذیب و تمدن کے ماتحت کسی وقت