خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 202

خطبات محمود ۲۰۲ سال ۱۹۳۹ء لاکھوں روپوں کے کارخانے جاری کر لیتے ہیں۔کونین ہی ہے یہ جزائر بحرالہند یا اُن کے قریب کے علاقوں میں پیدا ہوتی ہے۔وہاں کے لوگ اِس کے درخت سے بیماریوں کا علاج تو کرتے تھے مگر کوئی تجارتی فائدہ نہ اٹھا سکتے تھے۔وہاں کوئی انگریز ڈاکٹر آیا اُسے علم ہوا تو اُس نے پہلے اس سے ٹنکچر سنکونا تیار کی اور پھر کسی اور نے کونین بنالی اور اس طرح اس صنعت نے اس حد تک ترقی کی کہ اب وہ لوگ جن کے پاس سے یہ جاتی ہے وہ بھی یورپ سے ہی خرید تے ہیں۔اگر وہ خود اس کام کو جاری کرتے اور اُسے وسعت دینے کا خیال کرتے تو خود فائدہ اُٹھا سکتے تھے۔تو جو قو میں پیشوں کے اظہار میں بخل سے کام نہیں لیتیں وہ غالب ہو جاتی ہیں اور اُن میں سے ایسے ماہر پیدا ہو جاتے ہیں کہ گو لوگ جانتے ہیں کہ یہ کام کس طرح کیا جاتا ہے مگر وہ اُن سے ہی کراتے ہیں کیونکہ فائدہ خالی علم سے نہیں ہوتا بلکہ مہارت سے ہوتا ہے۔پس میں صرف یہ نہیں کہتا کہ کتابی علم عام کئے جائیں بلکہ حرفہ اور فنون کی تعلیم کو بھی عام کیا ج جائے۔یہ صرف غرباء کے لئے ہی نہیں بلکہ امراء کے لئے بھی مفید ہیں۔پھر اس لحاظ سے بھی یہ کی مفید ہوتی ہیں کہ بعض اوقات بڑے بڑے لوگوں کی بھی نوکریاں چھوٹ جاتی ہیں۔چار پانسو بلکہ ہزار ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ پانے والے RETRENCHMENT کی وجہ سے بے کار ہو جاتے ہیں یا اُن پر کوئی الزام لگتا ہے اور وہ برخاست ہو جاتے ہیں۔ایسی صورت میں اگر کوئی فن آتا ہو تو وہ تجارت وغیرہ شروع کر کے گزارہ کر سکتے ہیں لیکن کتابی علم والا صرف کی نوکری ہی کر سکتا ہے اور اِس وجہ سے جب وہ چھوٹ جائے تو گھر میں بیٹھ کر تمام اندوختہ کھالیتا ہے اور پھر بچے بھی خراب ہوتے ہیں اور خود بھی آخری عمر میں تکلیف اُٹھاتا ہے۔پس میری تجویز یہ ہے کہ پہلے تو تین ماہ کے عرصہ میں سب کو کتابی تعلیم دے دی جائے اس کے بعد حرفہ کی طرف توجہ کی جائے اور جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ مجھے لکھیں کہ وہ کی کیا کیا پیشے جانتے ہیں اور کتنے لوگوں کو کتنے عرصہ میں سکھا سکتے ہیں اور کیا کیا انتظامات ضروری ؟ میں چاہتا ہوں کہ سب لوگ کوئی نہ کوئی پیشہ سیکھ جائیں۔کوئی نجاری ، کوئی معماری اور کوئی لو ہار کا کام اور کوئی موچی کا کام۔یہ کام اتنے اتنے سیکھ لئے جائیں کہ گھر میں بطور شغل اختیار چھ ماہ (منہ)