خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 203

خطبات محمود ۲۰۳ سال ۱۹۳۹ء کئے جاسکیں اور اگر کوئی مہارت پیدا کرے تو وہ اختیار بھی کر سکے۔اس سے قومی رنگ میں بھی کی کئی فوائد ہو سکتے ہیں مثلاً اگر موچی کا کام آتا ہو تو ایک دن مقرر کر کے غرباء کے لئے جوتے تیار کئے جاسکتے ہیں۔چمڑا جماعت کی طرف سے دے دیا جائے اور سب بیٹھ کر جوتے تیار کر دیں یا معمار، نجار اور لوہار وغیرہ مل کر ایک دن کسی غریب کا مکان بنادیں۔یہ خدمت ہوگی جس سے ثواب حاصل ہوگا اور غریب کا مکان بھی بغیر خرچ کے تیار ہو جائے گا۔یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ان پیشوں کو عام کر دیا جائے ورنہ اگر پیشہ ور ایسا کرنے لگیں تو وہ سارا سال مفت ہی کرتے رہیں گے جس طرح سب مل کر مٹی ڈالتے ہیں اسی طرح سب مل کر کسی غریب کا کی مکان بنادیں۔ماہر اور کاریگر معمار اور نجار وغیرہ نگرانی کرتے رہیں اور دوسرے کام کریں۔اس طرح قومی عمارتیں بھی تیار ہو سکتی ہیں۔پس میں کتابی تعلیم سے زیادہ عملی تعلیم کی وسعت چاہتا ہوں۔بے شک کتابی علم مفید ہے مگر اس سے بڑھ کر فنون اور پیشوں کا علم مفید ہے اور اس سے قوم کا اقتصادی معیار بلند ہوتا ہے۔میں اُمید رکھتا ہوں کہ خدام الاحمد یہ تین دن کے اندر اندر ایسی سکیم پیش کر دیں گے کہ جس سے تین ماہ کے اندر اندر قادیان میں کوئی شخص ان پڑھ نہ رہے اور ایک ہفتہ کے اندراندر وہ لوگ جو پیشے اور فنون جانتے ہیں مجھے اطلاع دے دیں گے کہ وہ کیا کیا پیشے جانتے او کتنے کتنے لوگوں کو سکھا سکتے ہیں؟ بعض فن ایسے ہیں جنہیں عام لوگ جانتے بھی نہیں۔ہم تو یہ عام معمار، نجار، لوہار ، موچی وغیرہ کے پیشوں کو ہی جانتے ہیں۔اس کے علاوہ بھی بہت سے پیشے ہیں جو ہم نہیں جانتے۔میں نے ایک دفعہ پتہ کرایا تھا تو معلوم ہوا کہ ایک دوست کلاہ بنانا جانتے ہیں اور جو دوست ایسے پیشے اور فنون جانتے ہوں وہ بھی مجھے اطلاع دیں۔اگر ان کو جاری کر دیا جائے تو کئی لوگوں کے گزارہ کی صورت پیدا ہو سکتی ہے اور کئی ایک کی آمد میں ترقی ہو سکتی ہے۔پس جسے کوئی پیشہ آتا ہو وہ مجھے اطلاع دے تا دوسروں کو سکھانے کا انتظام کیا جا سکے۔میں تو چاہتا ہوں کہ مدرسوں میں بھی ایسے فنون سکھانے کا انتظام کیا جائے اور طالب علم چھ ماہ (منہ)