خطبات محمود (جلد 20) — Page 135
خطبات محمود ۱۳۵ سال ۱۹۳۹ء ایجاد کیا ہے۔اگر ریکارڈ نہ ہو تو گزشتہ امور سے فائدہ اُٹھانے میں سخت دقت پیش آتی ہے۔اب سب دُنیا میں دفتر موجود تھے، رجسٹر موجود تھے، خطوط موجود تھے ، کاغذات موجود تھے مگر ریکارڈ اور سٹیٹسٹکس ( STATISTICS) نہ رکھے جاتے تھے۔انگریزوں نے جب ان چیزوں کو دیکھا تو اُنہوں نے ذہنی طور پر فیصلہ کیا کہ اپنے کاموں سے تجارت حاصل کرنے کے لئے کوئی طریق ایجاد کیا جائے۔چنانچہ اُنہوں نے ریکارڈ رکھنے اور سٹیٹسٹکس کا طریق ایجاد کیا۔گو یا علم موجود تھا مگر لوگ ذہانت سے کام نہ لینے کی وجہ سے اس کی حفاظت سے غافل تھے۔انگریزوں نے اسی علم کو ذہانت سے کام لیتے ہوئے اپنے تجربوں سے فائدہ اُٹھانے کا ایک ذریعہ نکال لیا۔اسی طرح روزانہ ہمارے مشاہدہ میں بات آتی ہے کہ دو شخص ہیں دونوں کے پاس کتا بیں ہیں مگر ایک نے ان کتابوں کا انڈیکس بنایا ہوا ہوتا ہے اور دوسرے نے انڈیکس نہیں بنایا ہوتا۔اب وہ جس نے انڈیکس بنایا ہوا ہوتا ہے وہ اپنی ذہانت کی وجہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا لیتا ہے مگر دوسرا عدم ذہانت کی وجہ سے باوجود اس کے کہ علم اُس کے پاس بھی موجود ہے اس طرح فائدہ نہیں اُٹھا سکتا جس طرح ذہین شخص اُٹھاتا ہے۔تو نو جوانوں کو ذہین بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ممکن ہے کوئی کہے کہ ہم انہیں ذہین کس طرح بنا سکتے ہیں؟ کئی ہیں جو سخت گند ذہن ہوتے ہیں اور انہیں ہزار بار بھی کوئی بات سمجھائی کی جائے تو وہ اُن کی سمجھ میں نہیں آتی ، پھر سب کو ہم کس طرح ذہین بنا سکتے ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ گوانسانی طاقتیں محدود ہیں مگر جس قسم کی قوتیں اللہ تعالیٰ نے انسانی دماغ میں رکھی ہوئی تھ ہیں وہ ایسی ہیں کہ محنت اور دباؤ سے وہ تیز ہو جاتی ہیں اور عقل اور فطانت کی جنس تھوڑی بہت اللہ تعالیٰ نے ہر دماغ میں رکھی ہوئی ہے سوائے اس کے جو پاگل ہو۔اور ایسا شخص ہزاروں میں سے کوئی ایک ہوتا ہے۔باقی جس قدر اوسط دماغ رکھنے والے انسان ہیں اُن کے اندر ہر قسم کا مادہ موجود ہوتا ہے ، وہ ذہانت بھی رکھتے ہیں ، وہ فطانت بھی رکھتے ہیں ، وہ عقل بھی رکھتے ہیں، وہ فکر بھی رکھتے ہیں، وہ علم بھی رکھتے ہیں ، وہ شعور بھی رکھتے ہیں، وہ احساس بھی رکھتے ہیں اور کی جب کوئی شخص اُن قوتوں کو ترقی دینا چاہے تو وہ ترقی دے سکتا ہے۔یہ بالکل ممکن ہے کہ وہ انتہا درجہ کا فطین نہ بنے ، وہ انتہا درجہ کا ذ کی نہ بنے ، وہ انتہا درجہ کا ذہین نہ بنے ، وہ انتہا درجہ کا