خطبات محمود (جلد 20) — Page 12
خطبات محمود ۱۲ سال ۱۹۳۹ء کی محبت اپنے بندہ سے اتنی شدید اور اتنی عظیم الشان ہوتی ہے کہ انسانی محبتیں اس کے مقابلہ میں کوئی ہستی ہی نہیں رکھتیں بلکہ جس نے خدا تعالیٰ کی محبت کو نہیں دیکھا صرف انسانی محبت کو ہی کی دیکھا ہے وہ اس کی محبت کا قیاس بھی نہیں کر سکتا۔تو یہ ابتلا اپنے اندر ایک عظیم الشان برکت رکھتا ہے۔بشرطیکہ جماعت اس امتحان میں پوری اُترے۔میں نے بتایا ہے کہ اس سال کے ابتلا کا اثر صرف اس سال تک ہی محدود نہیں بلکہ اگلا سال بھی اس کے اندر شامل ہے۔کیونکہ ایک سال کا اثر لا زما دوسرے سال پر پڑتا ہے۔جو لوگ ایک سال بہت زیادہ قربانیاں کریں اُنہیں دوسرے سال بھی قربانی میں دشتیں محسوس ہوتی ہیں اور کہیں تیسرے سال جا کر اُن کا اثر کی دُور ہوتا ہے۔تو علاوہ ان ابتلاؤں کے جو جماعتی نظام کے ماتحت ہیں یا اپنی مرضی کے مطابق اختیار کئے گئے ہیں خدا تعالیٰ نے بھی اپنا حصہ ابتلاؤں میں شامل کر دیا ہے۔گویا یہ ابتلا کی چار گوشوں کا ابتلا ہے اور نہایت ہی مکمل اور لطیف ابتلا ہے۔چندہ عام جو ہے یہ جماعت کی طرف سے چندہ ہے یعنی ایک جماعتی اور نظامی فیصلہ کے ماتحت لوگ چندہ دیتے ہیں اور یہ جماعت کے افراد کی ایک آزمائش ہے۔جماعت کہتی ہے آؤ ہم اپنے اندر شامل ہونے والوں کی آزمائش کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ کہاں تک قربانی کا کی مادہ اپنے اندر رکھتے ہیں۔تحریک جدید خود خلیفہ کی طرف سے ہے۔گویا دوسری آزمائش خلیفہ کی طرف سے شروع کی ہے اور اس نے کہا ہے کہ آؤ میں بھی اس سال جماعت کی آزمائش کروں۔خلافت جو بلی کی کچ تحریک نہ جماعت کی طرف سے ہے اور نہ خلیفہ کی طرف سے۔بعض دوستوں کے دل میں یہ کی خیال پیدا ہوا اور جماعت کے باقی دوستوں نے اس خیال کے ساتھ اتفاق کا اظہار کر دیا۔پس یہ ایک ایسی تحریک ہے جس میں ہر شخص اپنا آپ امتحان لیتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ کس قدر زبانی کا مادہ اپنے اندر رکھتا ہے۔غرض ہماری جماعت کے تمام دوستوں نے اپنے آپ کو انفرادی طور پر اس امتحان کے لئے پیش کر دیا۔اُنہوں نے کہا ہمارا امتحان نظام سلسلہ نے بھی لیا، ہمارا امتحان خلیفہ نے بھی لیا۔آؤ ہم آپ بھی اپنا امتحان لیں۔تب اللہ تعالیٰ نے عرش سے کہا ہم بھی اس امتحان میں اپنی طرف سے ایک سوال ڈال دیتے ہیں۔پس یہ کیسا عظیم الشان