خطبات محمود (جلد 20) — Page 104
خطبات محمود ۱۰۴ سال ۱۹۳۹ء مگر اُنہوں نے اپنا راستہ نہ چھوڑا کیونکہ ان کا یہی عقیدہ تھا کہ تمام عزت اور راحت اسی سے ہے۔اس طرح جس شخص کو یہ یقین ہو کہ اُس کی ساری عزت و راحت دولت جمع کرنے میں ہے خواہ کتنی کوشش کی جائے وہ دولت جمع کرنا کبھی نہیں چھوڑے گا۔دوسری طرف جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو اس میں دولت کمانے سے منع نہیں کیا گیا۔قرآن کریم میں مومن اور خالص مومنوں کے لئے بعض احکام ہیں اور ان میں ڈھیروں ڈھیر مال کا ذکر ہے۔چنانچہ حکم ہے کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو ڈھیروں ڈھیر مال بھی دیا ہو تب بھی یہ جائز نہیں کہ طلاق دیتے وقت اُسے واپس لے لے اور ظاہر ہے کہ ڈھیروں ڈھیر مال کسی کے پاس ہوگا تو دے گا نہیں تو کہاں سے دے گا ؟ کنگال آدمی ڈھیروں ڈھیر مال کہاں سے دے سکتا ہے؟ اگر دولت کمانا منع ہوتا تو ایسی مثالیں بھی قرآن کریم میں نہ ہوتیں۔پھر قرآن کریم میں زکوۃ کا حکم ہے جو مال پر ہی دی جاتی ہے۔پھر تقسیم ورثہ کا حکم ہے۔اگر کی دولت کمانا جائز نہ ہوتا تو پھر تقسیم ورثہ کا حکم ہی نہ ہوتا اور اسی طرح صدقہ خیرات کے حکم بھی قرآن کریم میں نہ ہوتے اگر یہ احکام یونہی تھے تو یہ کیوں نہ بتایا کہ اگر کسی کے گھر میں شراب کا مٹکا ہو تو اُسے یوں تقسیم کیا جائے یا یہ کہ کسی مسلمان کے گھر میں سور کا گوشت ہو تو اُسے یوں تقسیم کیا جائے۔پس اگر دولت کمانا اسلام میں منع ہوتا تو ایسے احکام بھی نہ ہوتے۔اسلام نے دولت کمانے سے منع نہیں کیا بلکہ جس چیز کو منع کیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان اس دولت کو محفوظ کر کے ایسے رنگ میں رکھ لیتا ہے کہ دُنیا کو اس کے فائدہ سے محروم کرتا ہے۔روپیہ کو بنکوں میں جمع رکھا جاتا ہے یا خزانوں میں دفن کر دیا جاتا ہے اور اس طرح خود تو اس سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے مگر وہ دولت دوسروں کے کام نہیں آ سکتی۔جس چیز سے اسلام روکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس طرح کی دولت کو محفوظ نہ کر لو کہ دوسرے اِس کے فائدہ سے محروم رہ جائیں اور یہ کہ سود نہ لو کیونکہ اس کی سے دولت چندلوگوں کے ہاتھوں میں جمع ہو جاتی ہے اور باقی لوگ محروم رہ جاتے ہیں۔جس دولت سے دُنیا کو فائدہ پہنچے اس سے اسلام نے نہیں روکا ، جس کا فائدہ صرف مالک کو ہو اُس سے روکتا ہے۔جو لوگ سُود پر روپیہ لیتے ہیں لوگ اُن کو کروڑوں روپیہ دے دیتے ہیں کہ نفع ملے گا۔اسی طرح وہ روپیہ سمیٹ لیتے ہیں اور روپیہ چند ہاتھوں میں جمع ہو جاتا ہے۔