خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 105

خطبات محمود ۱۰۵ سال ۱۹۳۹ء پہلے تو لوگ ان کو اس لئے روپیہ دیتے ہیں کہ سُود ملے گا لیکن آخر کار ان کے دست نگر ہو جاتے ہیں اور اس طرح جو روپیہ جمع کرتے ہیں وہ کوشش کرتے ہیں کہ روپیہ جمع کرتے چلے جائیں تا کی دوسروں سے غلامی کروا سکیں اور خدمت کر اسکیں۔اس چیز سے قرآن کریم نے منع کیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں قیامت کے دن اسے جلا کر ان کے بدن کو داغ دیا جائے گا ہے اس سونا چاندی سے مُراد استعمال والا سونا چاندی نہیں جو جائز طور پر استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ قرآن کریم میں زکوۃ کا حکم ہے اور حدیثوں میں یہ تفاصیل بیان کی گئی کی ہیں کہ اتنے سونے اور اتنی چاندی پر اتنی زکوۃ دینی چاہئے۔اگر سونا چاندی پاس رکھنا ہی منع ہوتا تو اُس پر زکوۃ کے کوئی معنے ہی نہ تھے۔کیا شراب پر بھی کوئی زکوة ہے؟ تو یہ درمیانی رستہ ہے جو اسلام نے بتایا ہے اور ایسی دولت سے منع کیا ہے جس کے فائدہ سے دوسرے لوگ محروم رہ جائیں۔جو لوگ اس طرح دولت جمع کرتے ہیں وہ آرام طلب ہو جاتے ہیں اور یہی وہ کی لوگ ہیں جو ہاتھ سے کام نہیں کرتے۔ان کے مد نظر ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے پاس روپیہ ہو تو لوگوں سے کام لیں۔خود چار پائی پر بیٹھے ہیں اور دوسرے کو حکم دیتے ہیں کہ پاخانہ میں لوٹا کی رکھ آؤ اور اس قدر سکتے ہو جاتے ہیں کہ پاخانہ سے واپس آتے ہوئے لوٹا وہیں چھوڑ آتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ او کمبخت کہاں گیا جا لوٹا اُٹھا لا۔ان کو کوئی کام کرنا نصیب ہی نہیں ہوتا اور چونکہ ان کو دوسروں سے کام لینے کی عادت ہو جاتی ہے اس لئے یہی لوگ ہیں جو دُنیا میں غلامی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں بلکہ ان کا وجود غلامی کا منبع ہوتا ہے اور دُنیا میں ان کے ذریعہ غلامی اس طرح پھیلتی ہے جس طرح طاعون کے کیڑوں سے طاعون پھیلتی ہے۔یہ لوگ چاہتے ہیں کہ دنیا کی کی حالت ایسی رہے کہ اس میں ایک طبقہ ایسے لوگوں کا رہے جو ان کی خدمت کرتے رہیں اور وہ اس کے لئے کوشش بھی کرتے رہتے ہیں جس طرح حکومت کو گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لئے وہ زمینداروں کو مربعے دیتی ہے کہ گھوڑے پالیں اسی طرح جو لوگ اس بات کی کے عادی ہوتے ہیں کہ ہاتھ سے کام نہ کریں یا بعض کاموں میں اپنی ہتک سمجھیں وہ لازماً کوشش کرتے ہیں کہ دُنیا کا کچھ حصہ غریب رہے اور ان کی خدمت کرتا رہے۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر دُنیا کی حالت اچھی ہو جائے تو وہ کام کس سے لیں گے۔یہ بار یک باتیں شاید ہی