خطبات محمود (جلد 20) — Page 98
خطبات محمود ۹۸ سال ۱۹۳۹ء اہلِ شہر میں یہ روح پیدا کرنے کی کوشش کرو تو یقینا تم ایک ایسا کام کرتے ہو جو احمدیت کو زندگی بخشنے والا ہے۔باقی رہا سچ ، سو سچ بھی ایک ایسی چیز ہے کہ جس کے بغیر دُنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔سارے فساد اور لڑائی جھگڑے محض جھوٹ سے پیدا ہوتے ہیں۔لوگوں کو اگر ایک دوسرے پر اعتبار نہیں آتا یا تعلقات میں کشیدگی ہوتی ہے تو محض اس لئے کہ وہ سچ نہیں بولتے مگر جس کی کی سچائی پر لوگوں کو یقین ہو اُس کے متعلق وہ ایسی باتیں بھی ماننے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں جن باتوں کو وہ کسی دوسری صورت میں تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ معلوم ہوتا ہے کوئی موٹی عقل کا آدمی تھا جس نے اسلام پر غور کیا مگر اسلام کی صداقت اُس پر کسی طرح منکشف نہ ہوئی مگر پھر اُس کے دل میں شبہ بھی پیدا ہو جاتا کہ اگر اسلام سچا ہی ہوا تو میں خدا تعالیٰ کو کیا جواب دوں گا ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چونکہ صدوق مشہور تھے اور ہر شخص اس بات کو تسلیم کرتا تھا کہ آپ کبھی جھوٹ نہیں بولتے اس لئے اُس نے فیصلہ کیا کہ اس امر کا بھی آپ سے ہی فیصلہ کرائے اور اُسی شخص سے جو مدعی ہے دریافت کرے کہ کیا وہ اپنے دعوے میں سچا ہے یا نہیں ؟ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جو شخص مدعی ہے اُسی سے وہ پوچھنے آتا ہے کہ کیا آپ واقع میں مدعی ہیں یا یونہی کہہ رہے ہیں؟ وہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کی رسالت کا قائل نہیں تھا اس لئے اُس نے آتے ہی کہا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) میں تجھے سے ایک سوال کرتا ہوں تو خدا کی قسم کھا کر مجھے اُس کا جواب دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا جو بات تم دریافت کرنا چاہتے ہو دریافت کرو۔اُس نے کہا آپ خدا کی قسم کھا کر بتائیں کہ کیا آپ نے جو دعویٰ کیا ہے یہ خدا کے حکم کے مطابق کیا ہے اور کیا واقع میں خدا نے آپ کو رسول بنایا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے خدا نے ہی رسول بنا کر بھیجا ہے۔اُس نے کہا اگر یہ بات ہے تو ہاتھ لائیے میں ابھی آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہوں۔اب مُدعی وہی ہے اُس کے بیچ اور جھوٹ پر بحث ہے مگر چونکہ دنیوی زندگی میں وہ آپ کی سچائی کا قائل تھا اِس لئے اُس نے اپنی آخرت بھی آپ کے