خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 99

خطبات محمود ۹۹ سال ۱۹۳۹ء سپرد کر دی اور فیصلہ کر لیا کہ جب یہ دنیوی معاملات میں جھوٹ نہیں بولتا تو یہ ممکن ہی نہیں کہ دینی معاملات میں جھوٹ بولے۔تو سچائی ایک ایسی چیز ہے کہ وہ انسان کے رُعب کو قائم کر دیتی ہے۔تم اگر سچ بولو اور نوجوانوں کو سچ بولنے کی ہمیشہ تلقین کرتے رہو تو تمہارا ایک ایک فرد ہزاروں کے برابر سمجھا جائے گا۔لوگ تبلیغ کرتے اور بعض دفعہ شکایت کرتے ہیں کہ اس تبلیغ کا اثر نہیں ہوتا لیکن اگر سچائی کامل طور پر ہماری جماعت میں پھیل جائے اور لوگ بھی یہ محسوس کرنے لگ جائیں کہ اس جماعت کا کوئی فرد جھوٹ نہیں بولتا تو چاہے آج کے لوگ نہ مانیں مگر ان کی اولادیں اس بات پر مجبور ہوں گی کہ احمدیت کی صداقت کو تسلیم کریں کیونکہ جب ان کی اولادیں سنیں گی کہ فلاں شخص تھا تو بڑا سچا مگر ہمیشہ جھوٹ کی طرف لوگوں کو بلا تا رہا تو وہ حیران ہوں گی اور یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہوں گی کہ جنہوں نے ان لوگوں کو غلط عقائد میں مبتلا سمجھا اُنہوں نے غلطی کی۔تو نو جوانوں کو سچ بولنے کی عادت ڈالو اور خدام احمدیہ کے ہر ممبر سے یہ اقرار لو کہ وہ بیچ کی بولے گا اگر وہ کسی وقت سچ نہ بولے تو تم خود اسے سزا دو۔میں نے بارہا جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ یہ طوعی نظام ہے اور طوعی نظام والے کو سزا دینے کا بھی اختیار ہوتا ہے۔پس اگر تم سزا دو تو تمہیں کوئی قانون اس سے نہیں روکتا۔قانون تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم جبراً کسی کو سزا دو لیکن جو شخص آپ ایک نظام میں شامل ہوتا اور آپ کہتا ہے کہ مجھے بیشک سزا دے لو اسے سزا دینے میں کوئی قانونی روک نہیں۔بیشک بعض قسم کی سزائیں ایسی ہیں جنہیں قانون نے روک دیا کی ہے۔مثلا قتل ہے۔اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے بھی کہے کہ مجھے قتل کر لو تو دوسرا شخص اُسے قتل نہیں کی کر سکتا۔یہ صرف حکومت کا ہی کام ہے کہ وہ مجرم کو قتل کی سزا دے لیکن اس سے اتر کر جو معمولی سزائیں ہیں وہ طوعی نظام میں دی جاسکتی ہیں۔مدرس روز لڑکوں کو پیٹتے ہیں مگر کوئی قانون کی انہیں اس سے نہیں روکتا۔اس لئے کہ طالبعلم اپنی مرضی سے سکول میں جاتا اور وہ اپنی مرضی سے ایک نظام کا اپنے آپ کو پابند بناتا ہے۔پس جب وہ اپنی خوشی اور مرضی سے ایک نظام کو قبول کرتا ہے تو اُس کا فرض ہے کہ سزا کو بھی برداشت کرے۔پس تم اپنے اندر اسی شخص کو شامل کرو جو تمہارے نظام کی پابندی کرنے کے لئے تیار ہو اور جب کوئی شخص اس اقرار کے بعد