خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 74

خطبات محمود ۷۴ سال ۱۹۳۹ء سمجھتا ہوں اور میرے نزدیک یہ بات سب سے زیادہ دل پر زنگ لگانے والی ہے۔مباحثہ کرنے والوں کے مد نظر تقویٰ نہیں بلکہ مد مقابل کو چُپ کرنا ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ مباحثات سے بچتا ہوں اور میری تو یہ عادت ہے کہ اگر کوئی مباحثانہ رنگ میں سوال کرے تو ابتدا میں ایسا جواب دیتا ہوں کہ کئی لوگوں نے کہا ہے کہ اُنہوں نے کسی سوال پر پہلے پہل میرا جواب سُن کر یہ خیال کیا کہ شائد میں جواب نہیں دے سکتا اور دراصل ٹالنے کی کوشش کرتا ہوں مگر جب کوئی پیچھے ہی پڑ جائے تو میں جواب کی ضرورت محسوس کرتا ہوں اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسا جواب دیتا ہوں کہ وہ بھی اپنی غلطی محسوس کر لیتا ہے۔یاد رکھو سچائی کے لئے کسی بحث کی ضرورت نہیں ہوتی۔میں نے ہمیشہ ایسی باتوں سے روکا ہے۔ڈیبیٹنگ کہیں بھی میرے کی نزدیک آوارگی کی ایک شاخ ہے اور میں اس سے ہمیشہ روکتا رہتا ہوں لیکن یہ چیز بھی کچھ ایسی راسخ ہو چکی ہے کہ برابر جاری ہے حالانکہ اس سے دل پر سخت زنگ لگ جاتا ہے۔ایک شخص کسی چیز کو مانتا نہیں مگر اس کی تائید میں دلائل دیتا جاتا ہے تو اس سے دل پر زنگ لگنالا زمی امر ہے۔مجھے ایک واقعہ یاد ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ طریق ایمان کو خراب کرنے والا ہے۔مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سُنایا کہ مولوی بشیر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت مؤید اور میں مخالف تھا۔مولوی بشیر صاحب ہمیشہ دوسروں کو براہین احمدیہ پڑھنے کی تلقین کرتے اور کہا کرتے تھے کہ یہ شخص مجدد ہے۔آخر میں نے ان سے کہا کہ آؤ مباحثہ کر لیتے ہیں مگر آپ تو چونکہ مؤید ہیں ، آپ مخالفانہ نقطہ نگاہ سے کتابیں پڑھیں اور میں مخالف ہوں اس لئے موافقانہ نقطہ نگاہ سے پڑھوں گا۔سات آٹھ دن کتابوں کے مطالعہ کے لئے مقرر ہو گئے اور دونوں نے کتابوں کا مطالعہ کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ میں جو مخالف تھا احمدی ہو گیا اور وہ جو قریب تھے بالکل ڈور چلے گئے۔ان کی سمجھ میں بات آگئی اور ان کے دل سے ایمان جا تا رہا۔تو علم النفس کے رو سے ڈیبیٹس کرنا سخت مضر ہے اور بعض اوقات سخت نقصان کا موجب ہو جاتا ہے۔یہ ایسے بار یک مسائل ہیں جن کو سمجھنے کی ہر مدرس اہلیت نہیں رکھتا۔ابھی تھوڑا عرصہ ہوا یہاں ایک ڈیبیٹ ہوئی اور جس کی شکایت مجھ تک بھی پہنچی تھی اس میں اس امر پر بحث تھی کہ ہندوستان کے لئے مخلوط انتخاب چاہئے یا جدا گانہ؟ حالانکہ میں۔