خطبات محمود (جلد 20) — Page 592
خطبات محمود ۵۹۲ سال ۱۹۳۹ء اب فلاں وقت تک مہلت دی جائے۔پس یہ نوٹس مہلت دینے والوں کو نہیں بلکہ اُن لوگوں کو کی بھیجا جائے گا جو نہ تو مہلت لیتے ہیں نہ معافی لیتے ہیں اور نہ ہی چندہ ادا کرتے ہیں۔ایسے تمام لوگوں کے متعلق میں اعلان کرتا ہوں اور دفتر کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ ہر ایک کو چٹھی لکھ دے بلکہ اگر ہو سکے تو رجسٹری خط بھیجے تا کسی کو یہ اعتراض نہ رہے کہ مجھے خط نہیں ملا تھا اور سب بقایا داران کو اطلاع دے دے کہ یا تو اس رمئی تک آپ اپنی اپنی رقوم ادا کر دیں اور اگر مُہلت کی لینا چاہیں تو مہلت لے لیں ورنہ اگر نہ تو آپ نے مہلت لی اور نہ ۳۱ رمئی تک چندہ ادا کیا تو لسٹ میں سے آپ لوگوں کا نام خارج کر دیا جائے گا اور سمجھا جائے گا کہ آپ نے محض جھوٹی کی عزت کے لئے اپنا نام لکھا دیا تھا۔آپ کی نیت یہ نہیں تھی کہ قربانی کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کریں۔ایسے نادہندوں کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسے مثنوی رومی میں لکھا ہے کہ کوئی شخص تھا ج جب وہ اپنے دوستوں میں بیٹھتا تو بڑی بڑیں ہانکا کرتا اور اپنی بڑائی کے اظہار کے لئے عجیب عجیب باتیں کرتا۔اس کی عادت تھی کہ اس نے گھر میں دُنبے کی چکی کی چربی رکھی ہوئی تھی جب باہر آ تا تو تھوڑی سی چربی مونچھوں پر مل لیتا جب لوگ اُس سے پوچھتے کہ یہ آپ کی مونچھوں پر چر بی کیسی لگی ہوئی ہے تو کہتا آج دنے کا پلاؤ کھا کر آیا ہوں۔حالانکہ بھوک سے اُس کی آنتیں قل ھو اللہ پڑ رہی ہوتی تھیں۔کچھ مدت تو بڑا چر چا رہا کہ فلاں شخص بڑا خوش خور اور اچھی حیثیت کا آدمی ہے۔ہر روز ڈنے کا پلاؤ اور مرغن کھانے کھاتا ہے مگر ایک دن وہ اپنے دوستوں میں بیٹھا ہوا بڑیں ہانک رہا تھا کہ اُس کا لڑکا روتا ہوا آیا اور کہنے لگا اتبا وہ چھوٹی سی چربی کی ڈلی جو آپ اپنی مونچھوں پر ملا کرتے تھے چیل اُٹھا کر لے گئی ہے۔اس طرح اُس کا سارا تکبر ٹوٹ گیا۔یہی حال اُن نادہندوں کا ہے اور اگر وہ وعدہ پورا کر کے یا معافی لے کر حساب صاف نہ کریں گے تو میں ڈرتا ہوں کہ یہی حال اُن کا ہوگا۔وہ جھوٹی عزت حاصل کرنے کے لئے تحریک جدید میں شامل ہو گئے ہیں ورنہ دراصل وہ تحریک جدید کی ہتک کرنے والے ہیں اور اُن لوگوں کی صف میں ان کا کھڑا رہنا جو دس سال تک خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے اور چندوں کے علاوہ تحریک جدید کا چندہ بھی ادا کرتے چلے جائیں گے خواہ عارضی