خطبات محمود (جلد 20) — Page 551
خطبات محمود ۵۵۱ سال ۱۹۳۹ء کے خلاف لکھی ہوئی کتابوں کا چونکہ عرب کے لوگ جواب نہیں دیتے اس لئے اسلام پر جس قدر کی اعتراضات کئے گئے ہیں وہ درست ہیں کیونکہ ہر انسان یہ خیال کرتا ہے کہ میری بولی سب لوگ سمجھتے ہیں ، جرمن سمجھتے ہیں کہ دُنیا میں جرمن زبان سے ناواقف کوئی نہیں ہوسکتا، فرانسیسی سمجھتے ہیں کہ دنیا میں فرانسیسی زبان سے ناواقف کوئی نہیں ہوسکتا اور انگریز سمجھتے ہیں کہ دُنیا میں انگریزی زبان سے ناواقف کوئی نہیں ہو سکتا۔غرض ہر قوم اپنی زبان کے متعلق اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتی ہے کہ اسے تمام دُنیا کے لوگ سمجھتے ہیں اور وہ خیال کرتی ہے کہ بھلا کونسا ایسا نا معقول کی انسان ہوسکتا ہے جسے ہماری بولی بھی سمجھ میں نہ آ سکے۔پنجابی زبان کوئی علمی زبان نہیں مگر پنجابی جاٹ بھی جب ڈھولے کہتے اور پنجابی میں لکھے ہوئے اشعار پڑھتے ہیں یا لکھے شاہ کی کافیاں پڑھتے ہیں تو وہ خیال کرتے ہیں کہ بھلا کونسا ایسا انگریز یا امریکن ہے جسے یہ مضمون بھی معلوم نہ ہو۔اس طرح قوموں کو دھوکا لگ جاتا ہے اور وہ سمجھتی ہیں کہ چونکہ فلاں بات ہماری طرف سے بار بار دہرائی گئی ہے اور اس کا مخالف فریق کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔اس لئے وہ ضرور کچی ہے۔غیر مبائعین بھی اس فن میں عیسائیوں کے خوشہ چین ہیں وہ بھی بعض دفعہ جھوٹے پراپیگنڈا کو کمال تک پہنچا دیتے ہیں۔جب میری خلافت کے ابتدائی ایام میں اُنہوں نے ہمارے خلاف اپنے اخبار میں مضامین لکھنے شروع کئے تو ایک دن اُنہوں نے اپنے اخبار میں بڑے جلی عنوانات سے اس قسم کے الفاظ لکھے کہ مرزا محمود کی خفیہ سازش کا بھانڈا پھوٹ گیا۔حقیقت بے نقاب ہو گئی اور سازش کھل گئی مگر جب ہم نے نیچے مضمون دیکھا تو یہ تھا کہ ایک مبائع نے ہم سے بیان کیا ہے کہ حضرت خلیفہ اول جب فوت ہوئے ہیں تو اس رات مرزا محمود لوگوں کو جگا جگا کر کہہ رہے تھے کہ دُعائیں کرو اللہ تعالیٰ فتنہ سے لوگوں کو بچائے۔اب نیچے تو یہ خبر تھی مگر اوپر اس قسم کا عنوان تھا کہ بھانڈا پھوٹ گیا، سازش کھل گئی ، حقیقت بے نقاب ہو گئی اور خفیہ کارروائیوں کا پتہ چل گیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ کئی احمدیوں کے مجھے خط پہنچے کہ کیا پیغام صلح میں جو یہ بات شائع ہوئی ہے درست ہے؟ میں نے انہیں جواب لکھوایا کہ تم نیچے کی عبارت بھی تو پڑھو تم نے تو محض عنوان دیکھ کر سمجھ لیا ہے کہ کوئی سازش تھی جس کا بھانڈا پھوٹ گیا۔حالانکہ نیچے