خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 53

خطبات محمود ۵۳ سال ۱۹۳۹ء : لوگوں کی صحت بہت اعلیٰ ہونی چاہئے مگر واقعہ یہ ہے کہ یہاں ٹائیفائڈ بڑی کثرت سے ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ پاخانہ اور گند جوگلیوں میں جمع ہوتا ہے، بارش کے دنوں میں زمین کے اندر جذب ہو جاتا ہے اور پھر کنوؤں کے پانی میں مل کر لوگوں کو مرض میں مبتلا کر دیتا ہے۔پس ہم لوگ بلا وجہ قربانی کرتے ہیں اور بلا وجہ بیماریوں پر روپیہ ضائع کرتے اور پھر پچاس دنوں کا ضیاع بھی کرتے ہیں مگر وہ طریق اختیار نہیں کرتے جس میں خدا تعالیٰ کی بھی خوشنودی کی ہے اور اپنا فائدہ بھی ہے۔اگر خدام الاحمدیہ کے مہران یہ کام کریں اور پوری تندہی اور محنت کے ساتھ اس طرف توجہ کریں تو میں سمجھتا ہوں ایک سال کے اندر ہی وہ قادیان میں ایسا عظیم الشان تغیر پیدا کر سکتے ہیں کہ جلسہ سالانہ پر آنے والے لوگ حیران ہو جائیں اور وہ کہیں کہ یہ قادیان پہلا قادیان نہیں۔اور پھر ایک سال کے بعد ہی وہ دیکھیں گے کہ بیماریاں بھی مٹ گئی ہیں، لوگوں کی صحتیں بھی درست ہو گئی ہیں اور ان کا روپیہ بھی بچ گیا ہے۔یوں تو بیماریاں دُنیا میں رہتی ہی ہیں کیونکہ بعض کمز ور طبع لوگ ہوتے ہیں جو امراض کا جلد شکار ہو جاتے ہیں لیکن کم سے کم لوگ ان بیماریوں سے بچ سکتے ہیں جو وبائی صورت میں ایک مہلک رنگ اختیار کر لیتی ہیں۔یہ میں نے ایک مثال دی ہے ورنہ اصل مضمون میں یہ بیان کر رہا تھا کہ سلسلہ کے ہر محکمہ کو کام ایک پروگرام کے ماتحت کرنا چاہئے تا ہر وقت وہ آنکھوں کے سامنے رہے اور اس کے پورا کرنے کا خیال رہے ورنہ دن بہت نازک آ رہے ہیں اور اگر اس وقت اپنی اصلاح کی طرف کی توجہ نہ کی گئی تو پھر اصلاح کا وقت ہاتھ سے نکل جائے گا۔اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی تو میں اس مضمون کو اگلے جمعہ میں بیان کروں گا۔سر دست میں اصولی طور پر بتا دیتا ہوں کہ دُنیا میں ایک سخت نازک زمانہ اور لڑائیوں اور فسادات کے خطرے ہر روز بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ اس سال کے اندر اندر ہی کوئی ایسی خطر ناک لڑائی چھڑ جائے جس سے دُنیا کی آبادی نصف سے بھی کم رہ جائے۔ایسے ایسے تباہیوں کے سامان پیدا ہو چکے ہیں کہ اِن کا ذکر سُن کر حیرت آتی ہے۔تم ان تباہی کے سامانوں کا صرف اس امر سے ہی اندازہ لگا سکتے ہو کہ پہلے امریکہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اگر کوئی جنگ ہوئی تو ہم اس میں حصہ نہیں لیں گے کیونکہ ہم بالکل الگ ہیں اور بہت بڑے فاصلہ پر ہیں۔ہم پر اس جنگ کا کیا اثر ہو سکتا ہے؟