خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 503

خطبات محمود ۵۰۳ سال ۱۹۳۹ء دوسری طرف یقین رکھو کہ وہ بھی تم سے غداری نہیں کرے گا۔لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ پھر دیکھو تم کی کس طرح تیزی سے قدم مارتے ہوئے جسے پنجابی میں دگر دگر کر کے چلتے جانا کہتے ہیں اس راستہ پر چل پڑو گے جس سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور باوجود یکہ وہ غیر مرئی ہے تم اس کو پالو گے اور اس کا وصال حاصل کر لو گے۔اب غور کرو یہ کتنی بڑی چیز ہے مگر کتنے لوگ ہیں جو یہ طلب کرتے ہیں۔کئی لوگ ہیں جو کہ تو کل کا نام تو لیتے ہیں مگر یہ سمجھتے نہیں کہ یہ کیا چیز ہے۔کچھ عرصہ ہوا اسی سفر سندھ میں مجھے خدا تعالیٰ کی ملاقات کے متعلق ایک عجیب رویا ہوا جس کا اثر میری طبیعت پر اب تک ہے۔میں نے دیکھا کہ دو پہاڑیاں ہیں جن میں ایک درہ ہے اور پہاڑیوں کے پرے بہت بڑا وسیع میدان ہے جو گو مجھے نظر نہیں آتا مگر میں اُس درّہ کی طرف جارہا ہوں۔چاروں طرف اندھیرا ہے اور میں پہاڑیوں کے درمیانی راستوں پر سے گزر کر جا رہا ہوں۔میرے کانوں میں دور سے گونج کی اواز آ رہی ہے۔میں نے اس کے قریب ہونے کی کوشش کی تو وہ گانے کی آواز می معلوم ہوئی جیسے دور کوئی نہایت ہی شیریں آواز میں گا رہا ہو۔میرے قلب میں ایک بشاشت اور مسرت محسوس ہوئی اور میں نے اپنے قدم اور تیز کر دیئے کہ دیکھوں کیا بات ہے۔جب میں کچھ اور قریب ہوا تو میں نے محسوس کیا کہ گویا کچھ لوگ شعر پڑھ رہے ہیں مگر ابھی وہ شعر سمجھ میں نہیں آئے۔میں اور قریب ہوا تو کوئی کوئی لفظ سمجھ میں آنے لگا۔نہایت ہی سریلی آواز تھی اور ی یوں معلوم ہوا کہ کئی آدمی ہیں جو مل کر ایک ہی شعر پڑھ رہے ہیں۔میں اور آگے ہو ا تو آواز اور واضح ہونے لگی اور جب میں نے پھر کان لگائے کہ سنوں کیا پڑھتے ہیں تو یکدم میرے منہ سے یہ فقرہ نکلا کہ یہ تو میرے شعر ہیں اور جب میں نے اور غور کیا تو معلوم ہوا کہ وہ میرے ایک پرانے شعر کا مصرعہ پڑھ رہے تھے جو یہ ہے۔زنہار کے میں نہ مانوں گا چہرہ دکھا مجھے پڑھنے والوں کی آواز نہایت ہی سُریلی اور دل کو لبھا لینے والی تھی اور وہ اس طرح پڑھ رہے تھے جس طرح کوئی مست ہو کر گاتا ہے۔وہ نظر تو نہیں آتے تھے مگر اُن کی آواز سُنائی دیتی تھی۔جب میں اور قریب ہوا تو میں نے محسوس کیا کہ یہ تو فرشتے ہیں جو میرا مصرعہ پڑھ رہے