خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 502

خطبات محمود ۵۰۲ سال ۱۹۳۹ء ہوتی ہے اور اُس سے اچھا کوئی مانگنے والا ہوتا ہے اب نوکری تو ایک کی دو نہیں ہو جائیں گی اس کی لئے ایک کو ہی مل سکتی ہے کسی کے ہاں چپڑاسی کی جگہ خالی ہے اور یہ اس کے لئے دُعا کرتا ہے لیکن اُسے کیا علم ہے کہ دوسرا بھی اُس کے لئے کس طرح رو رو کر دعائیں مانگ رہا ہے اور اس کی کے سامان بھی زیادہ ہیں۔یعنی صحت وغیرہ بھی اس کی بہتر ہے۔ضرورت بھی اس کی زیادہ ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اس کی دُعا کو کس طرح سُن لے؟ نوکری ایک کی دو نہیں ہو سکتی مگر وہ چیز جس کی کے بانٹنے کے باوجود اس میں کمی نہیں ہو سکتی وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔روٹی بھی محدود ہے، عزت بھی محدود ہے۔یہ ساری چیزیں محدود ہیں اگر ایک شے کے لئے دو مانگنے والے سامنے ہیں تو زیادہ حق والے کو وہ دے گا۔یا پھر اگر وہ تمہارے لئے مضر ہے تو کو کوئی اور حق دار نہ ہو پھر بھی نہیں دے گا۔وہ دوست سے دشمنی کیوں کر سکتا ہے اور کیونکر ممکن ہے کہ جس چیز کے متعلق وہ جانتا ہے کہ آگ ہے وہ اپنے دوست کو دے دے؟ غرضیکہ سب دُعاؤں کی قبولیت میں روکیں ہوتی ہیں مگر ایک دُعا ہے جس کے ملنے میں کوئی بُرائی نہیں اور جس کے ملنے میں کوئی تج روک نہیں۔دُنیا کی ہر چیز میں بُرائی ہو سکتی ہے نماز میں بھی ہو سکتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے فرمایا ہے ويل للمصلين " خدا تعالیٰ کو مانگنے میں کوئی ڈیل نہیں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خدا تعالیٰ کسی سے اس لئے نہ ملے کہ وہ عذاب میں نہ پڑے۔یا یہ کہ خدا تعالیٰ کے وجود میں کمی نہ آجائے۔جس طرح ہوا ہر ایک کے ناک میں جاتی ہے مگر اُس میں کمی نہیں ہوتی اسی طرح کی خدا تعالیٰ ہر بندے کو ملتا ہے اور پھر بھی اُس میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔سورج کی شعاعوں سے سب مخلوق فائدہ اُٹھاتی ہے مگر اُن میں کوئی کمی نہیں ہوتی ، چاند کی شعاعوں میں کمی نہیں ہوتی۔تم چاند کی روشنی میں گھنٹوں بیٹھ کر لطف اُٹھا ؤ مگر نور پھر بھی وہیں کا وہیں رہے گا اور اس میں کوئی کمی نہیں ہوگی یہی حال خدا تعالیٰ کا ہے بلکہ خدا تعالیٰ تو ان سے بھی کامل ہے۔ان میں بھی ممکن ہے کہ کوئی باریک سے باریک کمی ہو جاتی ہو مگر خدا تعالیٰ میں اتنی بھی نہیں ہوتی اور وہ اپنے کی بندوں سے خود کہتا ہے کہ مانگومگر یاد رکھو کہ اس کے ساتھ میرے بھی دو مطالبے ہیں اور وہ یہ کہ (1) فليستجيبوا لي تم بھی ان باتوں کو جو میں کہتا ہوں مانو (۲) وَلْيُؤْمِنُوالي مجھ پر پورا پورا اعتماد کرو اور کامل تو کل رکھو۔گویا ایک طرف تو تم خدا تعالیٰ سے غداری نہ کرو اور کی