خطبات محمود (جلد 20) — Page 501
خطبات محمود ۵۰۱ سال ۱۹۳۹ء کے معنی ہر پکارنے والا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کو پکارنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب کی میرے بندے میری طرف دوڑتے ہیں ان کے اندر ایک اضطراب اور عشق پیدا ہوتا ہے اور وہ چلاتے ہیں کہ میرا خدا کہاں ہے تو ان سے کہہ دو کہ میں تمہاری طرف کے پکارنے والے کی پکا رکورڈ نہیں کرتا اور ضرور اُس کی دُعا کو سنتا ہوں۔دوسری جگہ بھی قرآن کریم میں یہ مضمون بیان ہے۔چنانچہ فرمایا وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا، یعنی جو لوگ ہمارے رستوں کی تلاش کی کوشش کرتے ہیں ہمیں اپنی ذات کی قسم ہے ہم ضرور ان کو رستہ کی دکھاتے ہیں۔دو تین سال ہوئے میرے پاس ایک سکھ آیا وہ بوڑھا آدمی تھا اُس نے ایک سکھ ٹھیکیدار کا نام لیا اور کہا کہ وہ کروڑ پتی آدمی ہے۔میں اُس کا منیم ہوں اور اُس نے مجھے بھیجا ہے کہ دنیا تو بہت کمائی ہے اب خدا تعالیٰ کو ملنے کی خواہش ہے۔آپ بتائیں اس سے کس طرح مل سکتے ہیں اور کہنے لگا کہ میں خود بھی اسی خیال کا ہوں۔میری طرف سے بھی یہی درخواست ہے۔میں نے کہا کہ میں راستہ تو بتا دوں گا مگر تم نے اُس پر چلنا نہیں۔وہ کہنے لگا بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ نہ چلیں۔میں نے کہا اگر چلیں تو یہ تو میری عین خواہش ہے مگر میرا خیال ہے آپ لوگ چلیں گے نہیں۔اس نے وعدہ کیا کہ ضرور چلیں گے۔میں نے اُسے سورۃ فاتحہ کا ترجمہ لکھ دیا اور کہا کہ یہ پڑھا کرو اور ساتھ دُعا کیا کرو کہ یا اللہ ہمیں سچائی کا رستہ دکھلا دے اور یہ سچا راستہ اسلام کا ہی ہو گا مگر روپیہ اور تعلقات وغیرہ کو چھوڑ کر اسلام قبول کرنا تمہارے لئے مشکل ہوگا۔بعض لوگ تو بے پرواہ ہوتے ہیں اور پھر کبھی جواب بھی نہیں دیتے مگر مہینہ ڈیڑھ مہینہ کے بعد اُس کا خط آیا کہ ہم نے اسی طرح دُعا کی تھی اور راستہ ہمیں بتایا بھی گیا ہے۔مگر اُس کے بعد اُس کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں ملی اور میری بات سچی نکلی کہ راستہ تو دکھا دیا جائے گا مگر رہیں گے وہ وہیں جہاں تھے۔غرض اللہ تعالیٰ ہر عقل ، مذہب اور علم کے آدمی کو اپنا راستہ دکھاتا ہے بشرطیکہ انسان اُس کے لئے کوشش کرے اور اُس دُعا کو وہ ضرورسُن لیتا ہے۔باقی کی دُعاؤں کے لئے وہ مصلحتوں کو دیکھتا ہے۔بعض دفعہ انسان جو روٹی مانگتا ہے اُس کے علم میں وہ اس کے لئے مہلک ہوتی ہے یا جو دولت مانگتا ہے، جو علم مانگتا ہے وہ اس کے لئے مہلک ہوتا ہے۔پھر بعض دفعہ ایک نوکری